اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)مغربی آسٹریلیا میں ایک 13 سالہ لڑکے نے غیر معمولی حوصلے اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پُرخطر سمندر میں کئی گھنٹے تیر کر اپنی ماں،
بہن اور بھائی کی زندگیاں بچا لیں۔یہ واقعہ مغربی آسٹریلیا کے ساحلی علاقے کوئنڈالپ (Quindalup) میں پیش آیا، جہاں یہ خاندان چھٹیاں گزار رہا تھا۔ تیز ہواؤں کے باعث ان کی چھوٹی کشتی اور ہوا سے بھرا پیڈل بورڈ قابو سے باہر ہو کر گہرے سمندر کی طرف بہنے لگے۔نوجوان لڑکے نے حالات کو بھانپتے ہوئے کشتی کو واپس ساحل کی جانب موڑنے کی کوشش کی تاکہ مدد حاصل کی جا سکے، تاہم کشتی ڈوب گئی۔ اس موقع پر بچے نے ہمت نہ ہاری اور تقریباً چار کلومیٹر کا فاصلہ سمندر میں تیر کر طے کرنے کا فیصلہ کیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لڑکے نے بتایا کہ وہ لگ بھگ چار گھنٹے مسلسل تیراکی کے بعد ساحل تک پہنچا۔ اس کے مطابق اس نے بریسٹ اسٹروک، فری اسٹائل اور دیگر تیراکی کے انداز استعمال کیے۔ ساحل پر پہنچ کر وہ نڈھال ہو کر گر پڑا، مگر پھر بھی مدد لینے کے لیے مزید دو کلومیٹر تک دوڑ لگا دی تاکہ کسی فون تک پہنچ سکے۔یہ واقعہ 30 جنوری کو پیش آیا، جس کی اطلاع مغربی آسٹریلیا کی پولیس کو مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے دی گئی کہ ایک خاندان سمندر میں بہہ گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائی شروع کر دی گئی۔ریسکیو حکام کے مطابق 47 سالہ خاتون، 12 سالہ لڑکا اور 8 سالہ بچی کو شام تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ایک ریسکیو ہیلی کاپٹر نے تلاش کر لیا۔ بعد ازاں امدادی جہاز کے ذریعے تینوں افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
مقامی میرین ریسکیو کمانڈر پال بریسلینڈ نے بتایا کہ خاندان ساحل سے تقریباً 14 کلومیٹر دور سمندر میں پھنس گیا تھا اور کئی گھنٹوں تک خطرناک لہروں کا سامنا کرتا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر 13 سالہ بچہ ہمت دکھاتے ہوئے ساحل تک نہ پہنچتا تو بروقت امداد ممکن نہ ہو پاتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ بچے نے ابتدائی دو گھنٹے لائف جیکٹ کے ساتھ تیراکی کی اور بعد میں لائف جیکٹ اتار کر مزید دو گھنٹے مسلسل تیرتا رہا، جس نے بالآخر اس کے پورے خاندان کی جان بچا لی۔















































