واشنگٹن (این این آئی)امریکی سائبر سیکیورٹی ایجنسی سیسا(سی آئی ایس اے) کے قائم مقام سربراہ ڈاکٹر مدھو گوتمکلا سے متعلق انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے متنازع اقدام اٹھاتے ہوئے حساس سرکاری دستاویزات عوامی اے آئی چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کر دیں۔ یہ انکشاف معروف امریکی جریدے کی رپورٹ میں سامنے آیا ۔رپورٹ کے مطابق گوتمکلا نے چیٹ جی پی ٹی کا استعمال اس وقت کیا جب محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ملازمین کے لیے اس ٹول کے استعمال پر پابندی تھی۔
اپ لوڈ کی گئی فائلز میں سیسا کی کنٹریکٹنگ سے متعلق دستاویزات شامل تھیں جن پر صرف سرکاری استعمال کے لیے کی مہر لگی ہوئی تھی، اگرچہ یہ مواد خفیہ نہیں تھا تاہم اسے حساس تصور کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ اگست میں سیسا کے سیکیورٹی سسٹمز نے ان اپ لوڈز پر متعدد بار وارننگز جاری کی تھیں جس کے بعد گوتمکلا کے خلاف اندرونی چھان بین شروع کی گئی تھی، یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ اس چھان بین کے کیا نتائج نکلے۔
سیسا کی ترجمان کے مطابق گوتمکلا کو محدود اور عارضی بنیادوں پر چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی اور ادارہ بدستور چیٹ جی پی ٹی تک رسائی کو عمومی طور پر بند رکھتا ہے۔ بھارتی نژاد ڈاکٹر مدھو گوتمکلا گزشتہ مئی سے سیسا کے قائم مقام سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کے پاس آئی ٹی کے شعبے میں 24 سال سے زائد تجربہ اور متعدد اعلی تعلیمی ڈگریاں موجود ہیں مگر انہوں نے نہایت لاپروائی برتتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا ہے۔















































