اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکا کی مسلسل مداخلت پر کھل کر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ واشنگٹن کی ہدایات اور دباؤ سے عاجز آ چکی ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد امریکا کی جانب سے وینزویلا پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سی این این کے مطابق ساحلی شہر پورٹو لا کروز میں تیل کے شعبے سے وابستہ کارکنوں سے خطاب کے دوران ڈیلسی روڈریگز نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وینزویلا کے سیاسی معاملات میں امریکی احکامات اب ناقابلِ برداشت ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو یہ حق دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات اور اندرونی مسائل خود حل کرے، بغیر کسی بیرونی دباؤ کے۔ڈیلسی روڈریگز اس وقت ایک پیچیدہ سیاسی صورتحال سے نمٹ رہی ہیں۔ ایک جانب انہیں سابق صدر مادورو کے حامی حلقوں کو مطمئن رکھنا ہے جبکہ دوسری جانب امریکا کی حمایت بھی برقرار رکھنا ضروری ہے، کیونکہ واشنگٹن نے انہیں عبوری قیادت کے طور پر تسلیم کر رکھا ہے۔امریکی دباؤ میں وینزویلا سے تیل کی پیداوار بحال کرنے جیسے مطالبات بھی شامل ہیں، تاہم قائم مقام صدر نے واضح کیا کہ ان کا ملک ماضی میں فاشزم اور انتہاپسند سوچ کی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے اور مزید کسی دباؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ جنوری کے آغاز میں ایک کارروائی کے دوران امریکا نے سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو حراست میں لے کر امریکا منتقل کر دیا تھا، جہاں مادورو کو مختلف قانونی الزامات کا سامنا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے وینزویلا پر سیاسی اور معاشی دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔اگرچہ ڈیلسی روڈریگز متعدد مواقع پر اس بات پر زور دے چکی ہیں کہ امریکا وینزویلا کے معاملات کا حاکم نہیں، تاہم وہ اب تک واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست تصادم سے بھی گریز کرتی نظر آئی ہیں۔















































