اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم کو اسپتال لانے کی تصدیق ایک اور ذریعے سے بھی ہو گئی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں پمز اسپتال کے ایک سینئر ڈاکٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب انتہائی سخت سکیورٹی میں ایک طبی عمل کے لیے پمز لایا گیا تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق اسپتال میں ان کے طبی پروسیجر میں کچھ وقت لگا، جبکہ ان کی آمد سے قبل ہفتے کی رات اسپتال میں غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ اس دوران آپریشن تھیٹرز اور ریکوری ایریاز کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا گیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ میں وین کی خطرناک بندش پیدا ہو گئی ہے، جس کے باعث ان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ پارٹی کے مطابق سابق وزیراعظم میں سی آر وی او (CRVO) نامی آنکھ کی بیماری تشخیص ہوئی ہے، جو ایک سنگین طبی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔
پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا ہے کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ علاج جیل کے اندر ہی کرانے پر زور دے رہی ہے، حالانکہ معالجین واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ اس بیماری کے علاج کے لیے آپریشن تھیٹر اور خصوصی سہولیات درکار ہوتی ہیں، جو جیل میں دستیاب نہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران خان کے ذاتی معالج کو تاحال معائنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
پی ٹی آئی نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کے طبی معائنے سے متعلق درخواست جو اگست 2025 سے زیر التوا ہے، اس پر فوری سماعت کی جائے، ان کی فیملی اور قریبی ساتھیوں سے ملاقات کرائی جائے اور انہیں بروقت اور مناسب طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔















































