منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل، اسٹیٹ بینک کا بڑا اعلان

datetime 27  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بتایا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری ملنے کے بعد نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس تیار کیے جائیں گے۔

پیر کے روز مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری تقریباً مکمل ہو چکی ہے اور جیسے ہی کابینہ کی حتمی منظوری ملے گی، پرنٹنگ کا آغاز کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے بینک نوٹس کے ڈیزائن کا عمل خاصی حد تک آگے بڑھ چکا ہے اور منظوری کے بعد بیک وقت دو یا تین مالیت کے نوٹس چھاپے جائیں گے۔ تاہم یہ نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ مرحلہ وار گردش میں لائے جائیں گے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک اس وقت تک نئے نوٹس متعارف نہیں کرائے گا جب تک موجودہ کرنسی کو تبدیل کرنے کے لیے مناسب مقدار میں نیا اسٹاک دستیاب نہ ہو جائے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی اس بات کا فیصلہ نہیں کیا گیا کہ سب سے پہلے کن مالیت کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے کرنسی نوٹس زیر استعمال ہیں۔

جمیل احمد نے مزید بتایا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی تجاویز پہلے ہی حکومت کو بھجوا دی گئی تھیں، جنہیں بعد میں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن پر غور کیا گیا اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کرنسی نوٹس کی ازسرِنو ڈیزائننگ جدید تقاضوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ماہرین کی مدد سے کی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…