ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

معروف سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑا؟ جذباتی ویڈیو بیان وائرل

datetime 15  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والی معروف اور سینئر براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی کے بعد پہلی بار کھل کر گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے کئی تلخ تجربات اور حقائق بیان کیے ہیں۔عشرت فاطمہ نے اس مرحلے کو اپنی زندگی کا انتہائی مشکل اور دل دکھانے والا فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جس ادارے کو وہ برسوں تک اپنا پیشہ ورانہ گھر اور اپنی پہلی محبت سمجھتی رہیں، وقت کے ساتھ وہی جگہ ان کے لیے اجنبی اور بے حسی کی علامت بن گئی۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک طویل ویڈیو میں انہوں نے جذبات سے بھرپور انداز میں بتایا کہ جب کوئی شخص پوری ایمانداری، لگن اور خلوص کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہو، لیکن اس کے باوجود اسے بار بار نظر انداز کیا جائے، اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی، تو ایسے حالات میں فیصلہ کرنا انسان کے لیے بے حد تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کام کے میدان میں کسی سے مقابلہ ممکن نہ رہے تو منفی حربے اختیار کیے جاتے ہیں، اور انسان سے اس کی شناخت، سکون اور وہ جگہ چھیننے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں بیٹھ کر وہ اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔

عشرت فاطمہ نے بتایا کہ وہ طویل عرصے تک اس امید پر حالات برداشت کرتی رہیں کہ معاملات بہتر ہو جائیں گے، انہیں میرٹ پر کام کرنے کا موقع ملے گا اور بطور ایک سینئر اور ’’لیجنڈ‘‘ براڈکاسٹر انہیں وہ عزت اور مقام دیا جائے گا جس کی وہ حقدار ہیں، مگر یہ توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ ان کے مطابق انہیں بالواسطہ طور پر بارہا یہ پیغام دیا جاتا رہا کہ اب ادارے کو ان کی خدمات درکار نہیں، جس کے بعد انہوں نے انتہائی بوجھل دل کے ساتھ استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ استعفے کے بعد پیش آنے والے حالات اور واقعات نے ان کے فیصلے کو مزید درست ثابت کر دیا۔ گفتگو کے دوران وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ان کی آواز، سانس، تلفظ اور پیشہ ورانہ صلاحیت بالکل درست ہے، وہ وقت کی پابند ہیں اور اپنے کام سے بے پناہ محبت رکھتی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود وہ آج گھر بیٹھی ہیں اور کسی بھی ادارے میں پیشہ ورانہ طور پر متحرک نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…