بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ، شدید سردی اور برفباری کی لہر کا امکان

datetime 15  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے ملک کے بالائی علاقوں میں شدید سردی کی لہر اور برفباری کے حوالے سے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق جنوری کے آخر تک گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں رات اور صبح کے اوقات میں موسم انتہائی سرد رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران بالائی علاقوں میں درمیانے سے شدید درجے کی برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کے نتیجے میں رابطہ سڑکیں بند، ٹرانسپورٹ کا نظام درہم برہم اور بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے،پہاڑی علاقوں میں برفباری کے باعث برفانی تودے گرنے اور سڑکوں پر شدید پھسلن کے خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے جس پر این ڈی ایم اے نے عوام سے احتیاط کی اپیل کی ہے۔

شدید سردی اور برفباری بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گرم کپڑوں کا استعمال کریں اور ہیٹر چلاتے وقت تمام تر حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ دوسری جانب، میدانی علاقوں میں سرد و خشک موسم کے ساتھ کورا یا پالا پڑنے کا خدشہ ہے جس سے فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔این ڈی ایم اے نے سیاحوں اور مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ناگزیر صورتحال میں برفباری والے مقامات پر گاڑی کے ٹائروں پر حفاظتی زنجیر کا استعمال لازمی کریں، سیاحتی مقامات پر جانے کے خواہش مند افراد وہاں رہائشی سہولیات کی دستیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے پروگرام تشکیل دیں۔ انتظامی سطح پر تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں برف ہٹانے والی ضروری مشینری کی دستیابی اور دیگر پیشگی حفاظتی اقدامات کو ہر صورت یقینی بنائیں۔شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم سے متعلق مستند اور بروقت معلومات کے لیے ٹی وی، ریڈیو اور این ڈی ایم اے کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکانٹس سے وابستہ رہیں، مزید برآں “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” موبائل ایپ کے ذریعے بھی تازہ ترین صورتحال سے آگاہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ تمام ممکنہ خطرات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ اداروں کو موسمی صورتحال کے مطابق مسلسل ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…