اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

رحیم یار خان میں منفرد طبی کیس، 5 سالہ بچے کے سینے سے ‘بغیر سر والا بچہ’ نکال لیا گیا

datetime 15  جنوری‬‮  2026 |

رحیم یارخان(این این آئی)رحیم یار خان میں بچے کے اندر ایک اور بچہ ہونے کا نایاب کیس سامنے آگیا۔ترجمان شیخ زید ہسپتال نے بتایا کہ 5 سالہ بچے کے سینے سے نامکمل نومولود کو نکال لیاگیا ۔یہ سرجری سرانجام دینے والے تھوراسک سرجن ڈاکٹر سلطان محمود اویسی نے کہا کہ ٹیم نے نازک آپریشن کامیابی سے مکمل کیا، نکالا گیا نومولود قبل از وقت تھا جس کی جان نہ بچ سکی۔ہسپتال ترجمان کے مطابق آپریشن کے بعد 5 سالہ بچے کی حالت تسلی بخش ہے اور مریض کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر سلطان نے بتایاکہ آپریشن کے ذریعے نکالا گیا ‘فیٹس’ دل کی مرکزی شریان کے پاس موجود تھا، ایسے کیسز میں زیادہ تر بچہ نما یہ چیز پیٹ میں پائی جاتی ہے لیکن یہ کیس اس لیے بھی منفرد تھا کہ اس میں بچہ سینے میں موجود تھا، بچے کے کئی اعضا تشکیل پا چکے تھے لیکن پانچ سال تک اس کی تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔

دوسری جانب بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر سلطان اویسی نے بتایا کہ5 سال قبل جب بچہ 18 دن کا تھا تو تب سے اسے سانس لینے میں دشواری، سینے میں انفیکشن اور کھانسی ہوتی تھی اور اکثر بخار بھی رہتا تھا، بچے کو متعدد ڈاکٹروں کے پاس لے جایا گیا مگر اب جب بچے کا سی ٹی اسکین کروایا گیا تو تشخیص ہوئی کہ یہ ‘فیٹس ان فیٹو’ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 5 سالہ بچے کے اندر سے جو بچہ نکالا گیا اس کے کچھ اعضا تشکیل پا چکے تھے، اس کی ریڑھ کی ہڈی، بال دانت اور دیگر اعضا بھی تھے، سوائے سر کے ساری چیزیں موجود تھیں، اس کا وزن تقریباً ایک کلو تھا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ندیم اختر ( پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا پمز اسپتال میں پیڈیاٹرک سرجری کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ) نے بتایا کہ ایک بچہ نما چیز پیٹ میں پلتی ہے لیکن اکثر یہ ایک ٹیومر سرطان یا رسولی ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ جسم میں پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہو، یہ جس مقام پر ہوتا ہے اسی جگہ پر رہتا ہے، زیادہ تر پیٹ کے نچلے حصے میں۔پروفیسر ندیم اختر کے مطابق اس کیفیت کا نام ‘فیٹس ان فیٹو’ اس لیے رکھا گیا کیوں کہ ‘فیٹس میں تین تہیں ہوتی ہیں جو اس ٹیومر میں بھی ہوتی ہیں۔’

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…