اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کم اجرت، طویل ڈیوٹیاں، مسلسل ذہنی و جسمانی دباؤ اور غیر یقینی مستقبل پاکستان کے طبی شعبے کو شدید بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ ہر سال ہزاروں ڈاکٹرز بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔روزنامہ امت میں شائع ہونے والی صحافی محمد اطہر فاروقی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان سے سالانہ ساڑھے تین ہزار سے زائد ڈاکٹرز بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹرز کی ہجرت کی بڑی وجوہات میں حکومتی اور سماجی سطح پر عزت و احترام کا فقدان، ناکافی تنخواہیں، حد سے زیادہ ڈیوٹی اوقات، شدید ذہنی و جسمانی تھکن اور مستقبل کا عدم تحفظ شامل ہیں۔اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق ملک میں صحت کی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں سات لاکھ پچاس ہزار افراد کے لیے صرف ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ اس کے باوجود ماہر طبی عملہ ملک چھوڑ رہا ہے۔ بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 3,795 ڈاکٹرز نے پاکستان چھوڑا، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 3,642 تھی۔جون 2025 میں جاری ہونے والی دو سالہ اقتصادی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں صحت پر ہونے والے اخراجات مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے ایک فیصد سے بھی کم ہیں، جو طبی سہولیات کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
امت نے ڈاکٹرز کی ہجرت کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف طبی تنظیموں کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی اوقات غیر معمولی حد تک طویل ہیں، جبکہ سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک قومی طبی فورم میں ماہرینِ قلب اور ماہرینِ نفسیات نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زائد ڈاکٹرز اور سرجنز مستقل ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار ہیں۔طویل شفٹس، مریضوں کا بے پناہ دباؤ، فضائی آلودگی، ٹریفک مسائل اور انتظامی ذمہ داریوں نے ڈاکٹرز کو دل کے امراض، شوگر، موٹاپے، ڈپریشن اور اینزائٹی جیسے مسائل میں مبتلا کر دیا ہے۔پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر عاطف حفیظ صدیقی نے بتایا کہ ڈاکٹرز کی بیرون ملک منتقلی کی سب سے بڑی وجہ معاشی مسائل ہیں۔ ان کے مطابق پبلک سیکٹر میں گریڈ 17 کے ڈاکٹر کو برسوں کی تعلیم اور محنت کے باوجود بمشکل ایک لاکھ روپے سے کچھ زائد تنخواہ ملتی ہے، جو ناکافی ہے۔ اس کے ساتھ 24 سے 36 گھنٹے کی طویل ڈیوٹیاں معمول بن چکی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات جیسے صاف پانی، واش رومز، آرام کے کمرے اور کھانے کی جگہ تک میسر نہیں۔ اکثر ڈاکٹرز سے انتظامی نوعیت کے کام بھی کروائے جاتے ہیں، جس سے ان پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اس کے برعکس بیرونِ ملک بہتر تنخواہ، مناسب ڈیوٹی اوقات اور عزت و احترام میسر ہوتا ہے، اسی لیے ڈاکٹرز ملک چھوڑنے کو ترجیح دیتے ہیں۔پروفیسر صدیقی کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ڈاکٹرز کو کنٹریکٹ سسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے، جس سے عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔ دو سالہ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ڈاکٹرز کو ہر وقت ملازمت ختم ہونے کا خدشہ لاحق رہتا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور تربیت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ کے سرپرست ڈاکٹر عامر سلطان نے بھی تصدیق کی کہ حالیہ برسوں میں بیرون ملک جانے والے ڈاکٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کو نہ حکومتی سطح پر وہ عزت ملتی ہے اور نہ ہی مریضوں کی جانب سے۔ خاص طور پر اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی تنخواہیں انتہائی کم ہیں، جبکہ بیرون ملک یہی ڈاکٹرز دس گنا تک زیادہ معاوضہ حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں پر مریضوں کا بوجھ حد سے زیادہ ہے اور انتظامی ذمہ داریاں بھی انہی کے سر ڈال دی جاتی ہیں۔ بیرون ملک کام کرنے والے ڈاکٹرز جب واپس رابطہ کرتے ہیں تو وہ بہتر تنخواہ، کم کام کا دباؤ، عزت، سہولیات اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کو بیرون ملک جانے کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کو مستقبل میں شدید طبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں علاج کے لیے ڈاکٹرز دستیاب ہونا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔















































