قاہرہ(این این آئی)ماہِ مقدس کے آغاز کی تاریخ قریب آتے ہی فلکیاتی تحقیقی اداروں نے رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کے تعین کے لیے اپنی سائنسی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔قومی ادارہ برائے فلکیاتی اور جیو فزیکل تحقیق کے ماہر ڈاکٹر محمد غریب نے اتوار 18 جنوری کو ایک اہم فلکیاتی مظہر رونما ہوگا جس کے بعد رمضان المبارک کے پہلے دن کی تاریخ حتمی طور پر واضح ہو جائے گی۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ مظہر چاند، سورج اور زمین کے درمیان مکمل اقتران کی صورت میں ظاہر ہوگا جب تینوں اجرامِ فلکی ایک ہی سیدھ میں آ جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ فلکیاتی اقتران سائنسی اعتبار سے ماہ رجب کے اختتام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ڈاکٹر محمد غریب نے بتایا کہ موجودہ ماہ رجب فلکی حساب کے مطابق 30 دن مکمل کرے گا جبکہ ماہ شعبان کی پہلی تاریخ فلکی طور پر 20 جنوری کو ہوگی۔
یہ تمام نتائج ادارے کی جانب سے کی جانے والی انتہائی درست فلکیاتی حسابات پر مبنی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی ادارہ برائے فلکیاتی اور جیو فزیکل تحقیق متعلقہ حکام کو یہ سائنسی معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ عوام کے سامنے درست تصویر پیش کی جا سکے تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہجری مہینوں کے آغاز کا سرکاری اعلان ہمیشہ شرعی ریتِ ہلال کی بنیاد پر ہی کیا جاتا ہے۔فلکیاتی مطالعات کے مطابق ماہ رمضان کا چاند براہ راست بدھ 18 فروری کو پیدا ہوگا جو ماہ شعبان کو مکمل کرنے والا دن ہوگا جبکہ فلکی حساب سے ماہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ جمعرات 19 فروری قرار پاتی ہے۔توقع ہے کہ ریت کے دن قاہرہ اور مصر کے دیگر علاقوں میں نیا چاند غروبِ آفتاب کے بعد 25 سے 30 منٹ تک آسمان پر دکھائی دے گا۔ماہرین کے مطابق ماہ رمضان کے دوران موسم معتدل سرد رہنے کا امکان ہے جس کا مثبت اثر روزے کے دورانیے پر پڑے گا۔ پہلے روزے کا دورانیہ تقریبا 13 گھنٹے اور 20 منٹ ہوگا جو ماہ کے دوران بتدریج بڑھتا جائیگا















































