اسلام آباد (نیوز ڈیسک) – ایران میں دو ہفتوں سے جاری پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 539 تک پہنچ گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق گزشتہ روز بھی تہران میں مظاہرے شدت اختیار کر گئے، جن میں شرپسند عناصر نے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگا دی اور سرکاری عمارتوں میں پیٹرول بم پھینکے۔ مظاہرین کے حملوں کے نتیجے میں اب تک 109 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس گروپ کے مطابق اب تک 10 ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران 114 سیکیورٹی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صوبہ خراسان میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے دو مبینہ جاسوس گرفتار کیے گئے، جن سے جاسوسی کے آلات اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ بیرونی دہشت گردوں نے ایران میں ہنگامہ آرائی کروائی، اور شرپسندوں کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ہدایات ملتی رہیں۔ ایک مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر نے شہریوں سے اپیل کی کہ اپنے بچوں کو فسادیوں اور دہشت گردوں سے دور رکھیں اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔















































