جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آباد اور راولپنڈی میں برفباری،پورے پنجاب میں خوفناک سردی، ماہرین نے خدشہ ظاہر کردیا

datetime 12  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پی ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں میں شدید سردی کے پیشِ نظر 16 جنوری تک الرٹ جاری کر دیا ہے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات اور پوٹھوہار کے علاقوں میں شدید سردی کے ساتھ برف باری کے امکانات ہیں، جبکہ دھند اور اسموگ میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ ادارے نے سیاحت، تعلیم، صحت، زراعت، لوکل گورنمنٹ، جنگلات اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھی مراسلے کے ذریعے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام موسمیاتی ماڈلز ملک کے مختلف حصوں میں غیر معمولی سردی کے اشارے دے رہے ہیں۔ سائبیریا سے آنے والی شدید برفیلی ہوائیں پورے خطے پر اثر انداز ہونے والی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ وہ سردی ہے جو دہائیوں بعد ملک میں محسوس ہو رہی ہے، اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں سے لے کر سندھ کے میدانی علاقوں تک درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کم ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ 11 سے 13 جنوری کے درمیان ملک کے جنوبی علاقوں میں کمزور ہوا کا کم دباؤ درجہ حرارت میں عارضی اضافہ کر سکتا ہے، تاہم 16 سے 18 جنوری کے درمیان ملک گیر مغربی ہواؤں کا سلسلہ متوقع ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں شہری علاقوں میں برف باری کے امکانات ہیں، اور کم سے کم درجہ حرارت انتہائی سطح تک گر سکتا ہے۔ موسمی ماڈلز کے مطابق لاہور میں بھی برف باری کے امکانات ہیں، جو سن 1878 کے بعد پہلی بار ہو سکتی ہے۔کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 15 سے منفی 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے، جبکہ محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت منفی 25 ڈگری تک ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال سن 1970 کے بعد پہلی بار ممکن ہے۔ پشاور میں 15 سے 25 ملی میٹر بارش کے ساتھ 23 سے 25 جنوری کے درمیان برف باری بھی متوقع ہے، اور کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی کے دوران بارش اور برف باری کی توقع ہے۔ خاص طور پر کوئٹہ اور قلّات میں 4 سے 6 انچ برف باری ممکن ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 21 سے 23 جنوری کے درمیان صوبے بھر میں 60 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی تیز، برفیلی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…