اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ملک بھر میں یکساں بجلی ٹیرف نافذ کرنے کے لیے نئے نرخوں کے اعلان کی توقع ہے اور اس حوالے سے ممکنہ تاریخ بھی سامنے آ گئی ہے۔نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نیپرا میں دائر درخواست پر سماعت چیئرمین وسیم مختار کی سربراہی میں ہوئی، جس میں ملک بھر کے صارفین کے لیے یکساں بجلی ریٹ نافذ کرنے کی تیاری زیرِ غور رہی۔وفاقی حکومت نے نئی کنزیومر اینڈ ٹیرف درخواست کے ساتھ موجودہ ٹیرف نوٹیفکیشن میں ترامیم کی تجویز بھی نیپرا کے سامنے پیش کی ہے۔
اس کے علاوہ کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے بھی یکساں ٹیرف کے نفاذ کی درخواست کی گئی ہے، جس پر نیپرا ایکٹ کے سیکشن 31 کے تحت نظرثانی شدہ ٹیرف نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نئے بجلی نرخوں کا اطلاق 15 جنوری سے متوقع ہے۔نیپرا سماعت کے دوران پاور ڈویژن کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 26 فیصد کمی کی گئی ہے، جس کے بعد صنعتی ٹیرف 62.99 روپے سے کم ہو کر 46.31 روپے فی یونٹ ہو گیا ہے۔ اسی طرح کراس سبسڈی 225 ارب روپے سے کم ہو کر 102 ارب روپے کر دی گئی، یعنی 123 ارب روپے کی نمایاں کمی کی گئی ہے۔مزید بتایا گیا کہ قومی اوسط بجلی نرخ 53.04 روپے سے کم ہو کر 42.27 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔ زرعی صارفین کے لیے 16 فیصد، کمرشل صارفین کے لیے 10 فیصد، جنرل سروسز کے لیے 12 فیصد اور بلک صارفین کے لیے 15 فیصد کمی کی گئی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر میں نرخوں میں 46 فیصد کمی کی گئی ہے۔دورانِ سماعت صنعتی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ چین میں صنعت کے لیے بجلی کی قیمت 5 سے 7 سینٹ ہے جبکہ پاکستان میں 13 سینٹ فی یونٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 5 سینٹ نہیں مانگ رہے لیکن کم از کم 9 سینٹ پر ٹیرف ہونا چاہیے، کیونکہ موجودہ نرخوں پر صنعتیں نہیں چل سکتی ہیں۔
صنعتی صارفین نے یہ بھی کہا کہ انڈسٹری ٹیرف میں سے کراس سبسڈی ختم کرنا ہوگی، کیونکہ وہ اس وقت 131 ارب روپے کی سبسڈی ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی ٹیرف کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پالیسی کا مسئلہ ہے اور ملک میں کراس سبسڈی سیاسی نوعیت کی ہے۔پاور ڈویژن کے حکام نے بتایا کہ حکومت نے بجلی کے اوسط بنیادی ٹیرف میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور سبسڈیز کو ایڈجسٹ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث ٹیرف میں کوئی اضافی بوجھ نہیں ہو رہا۔ جولائی سے اب تک توانائی کے مکس میں تبدیلی کے باوجود حکومت نے نرخوں میں رد و بدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فی الوقت تمام کیٹیگریز کے صارفین کو 629 ارب روپے کی سبسڈیز فراہم کی جا رہی ہیں۔نیپرا نے سماعت مکمل ہونے کے بعد کہا کہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد تفصیلی فیصلہ جاری کیا جائے گا اور پاور ڈویژن کی جانب سے بلنگ سرکل میں فیصلہ جاری کرنے کی استدعا پر اتھارٹی نے جلد فیصلہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔















































