ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پی ایس ایل کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے والے مجید چوہدری کون ہیں؟

datetime 9  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 11 کے لیے سب سے مہنگی فرنچائز سیالکوٹ کے نام ہو گئی، جس کے مالکانہ حقوق او زیڈ گروپ کے سربراہ مجید چوہدری نے 10 سال کے لیے 185 کروڑ روپے میں حاصل کر لیے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کی نئی ٹیم سیالکوٹ کی بولی میں او زیڈ گروپ کے سربراہ مجید چوہدری نے کامیابی حاصل کی۔ وہ بولی کے عمل میں نہ صرف شریک ہوئے بلکہ پی ایس ایل کی تاریخ کی آٹھویں اور اب تک کی مہنگی ترین ٹیم خریدنے کا اعزاز بھی اپنے نام کر لیا۔

بولی کی یہ تقریب اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہوئی، جہاں مجموعی طور پر دو نئی ٹیمیں، حیدرآباد اور سیالکوٹ، 3 ارب 60 کروڑ روپے میں فروخت کی گئیں۔رپورٹس کے مطابق مجید چوہدری، جو او زیڈ گروپ کے سربراہ اور فیصل آباد کی پی ایس ایل فرنچائز کے بھی مالک ہیں، آسٹریلیا میں مقیم رہے ہیں اور تقریباً دو برس قبل پاکستان واپس آئے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک قیام کے دوران ہمیشہ دل میں یہ خواہش رہی کہ اپنے وطن کے لیے کچھ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ وہ کھیل ہے جو پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے، اور انہیں بچپن ہی سے کرکٹ سے خاص لگاؤ رہا ہے۔مجید چوہدری نے مزید بتایا کہ وہ نئی پی ایس ایل ٹیم کے حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج کل اکثر لوگ ملک چھوڑنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنے پیارے پاکستان واپس آ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ادھر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے حیدرآباد اور سیالکوٹ کی شمولیت کو پی ایس ایل کے لیے ایک اہم اور تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیلامی کے دوران حاصل ہونے والی رقم کسی صورت معمولی نہیں۔ محسن نقوی نے نئی ٹیموں کے مالکان کو مبارکباد دیتے ہوئے فواد سرور اور حمزہ مجید کا نام لیا اور حیدرآباد و سیالکوٹ کے عوام کو بھی اس کامیابی پر مبارکباد پیش کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…