ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد پر پابندی عائد کرنےکامنصوبہ

datetime 8  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آبا د(نیوز ڈیسک)وفاقی حکومت نے نئی موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائسز مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2033 کے تحت استعمال شدہ موبائل فونز کی درآمد روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد ملک میں موبائل فون کی مقامی تیاری کو فروغ دینا اور بیرونی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس پالیسی کا باضابطہ اعلان پیر کے روز وزارتِ صنعت و پیداوار نے کیا۔ پالیسی انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) نے ملکی موبائل فون مینوفیکچررز کے تعاون سے تیار کی ہے، جس میں بھارت، ویتنام اور بنگلہ دیش کے کامیاب صنعتی ماڈلز سے رہنمائی لی گئی ہے۔یہ پالیسی وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی سربراہی میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پیش کی گئی، جہاں اس کے مقاصد، پیش رفت اور عملی نفاذ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں مکمل درآمد شدہ موبائل فونز کے مقابلے میں مقامی اسمبلنگ کے معاشی فوائد پر بھی روشنی ڈالی گئی۔پالیسی فریم ورک کے تحت لازمی برآمدی اہداف کو غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے اور آٹو انڈسٹری کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا گیا کہ اس نوعیت کی پابندیاں عموماً مطلوبہ نتائج نہیں دیتیں۔ تاہم برآمدات کے لیے معیار کی جانچ کو اہم قرار دیا گیا ہے، جسے لازمی بنانے کے بجائے سہولت کی صورت میں فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی تناظر میں سرکاری سطح پر مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کے قیام کی سفارش بھی شامل ہے۔پالیسی کے مطابق کارکردگی سے جڑے اہداف پورے نہ کرنے کی صورت میں جرمانے عائد کیے جا سکیں گے، جبکہ ای ڈی بی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موبائل فون اسمبلنگ کے لیے کم از کم پرزہ جات کی تعداد طے کرے۔ اس سلسلے میں اسمارٹ فونز کے لیے ایس کے ڈی کٹس میں کم از کم 40 اور فیچر فونز کے لیے 15 پرزہ جات شامل کرنا لازمی ہوگا۔

اس کے علاوہ ویلیوایشن رولنگز کو باضابطہ ادارہ جاتی نظام کے تحت لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں ای ڈی بی، پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور کسٹمز ویلیوایشن ڈائریکٹوریٹ شامل ہوں گے۔ انڈر انوائسنگ کی روک تھام کے لیے مکمل تیار شدہ (سی بی یو) اور مقامی طور پر اسمبل شدہ موبائل فونز کو سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول میں شامل کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔پالیسی میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ برآمدی اہداف کو ٹیکس انکریمنٹ فنانسنگ (ٹی آئی ایف) کے نفاذ سے مشروط کیا جائے، جبکہ سی بی یو اور ایس کے ڈی درآمدات کے درمیان کم از کم 30 فیصد ٹیرف فرق برقرار رکھا جائے۔ مزید یہ کہ ٹی آئی ایف لیوی کے اطلاق کو دونوں اقسام کی درآمدات تک بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ای ویسٹ مینجمنٹ کو ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس کے لیے محتاط اور جامع حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ اس پالیسی کا بنیادی ہدف مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…