منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا نے ورک ویزا دینے کا نیا طریقہ متعارف کرا دیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا نے غیر ملکی ماہر افرادی قوت کے لیے جاری H-1B ورک ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ لاٹری کے موجودہ طریقۂ کار کو ختم کرتے ہوئے ایک نیا ویٹڈ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے، جس میں زیادہ مہارت اور بہتر تنخواہ حاصل کرنے والے امیدواروں کو فوقیت دی جائے گی۔ یہ نیا نظام 27 فروری 2026 سے نافذ العمل ہوگا، جبکہ مالی سال 2027 کے لیے جاری کیے جانے والے 85 ہزار H-1B ویزے اسی طریقے کے تحت دیے جائیں گے۔

تنخواہ اور مہارت کو بنیادی معیار بنایا گیا

امریکی محکمہ داخلہ (ڈی ایچ ایس) کے مطابق نئے فریم ورک میں ویزوں کی تقسیم کا دارومدار امیدوار کی تنخواہ کی سطح اور پیشہ ورانہ صلاحیت پر ہوگا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ابتدائی سطح کے پیشہ ور افراد کے لیے امریکا میں ملازمت کے مواقع حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروس (یو ایس سی آئی ایس) کے ترجمان میتھیو ٹریگیسر کا کہنا ہے کہ پرانے لاٹری سسٹم کا بعض کمپنیوں نے ناجائز فائدہ اٹھایا، خاص طور پر وہ ادارے جو کم اجرت پر غیر ملکی ورکرز بھرتی کرنا چاہتے تھے۔

بھارتی ماہرین پر ممکنہ اثرات

H-1B پروگرام امریکی ٹیکنالوجی سیکٹر میں غیر ملکی پیشہ ور افراد کی بھرتی کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے، جہاں بھارتی آئی ٹی ماہرین اور ڈاکٹرز نمایاں تعداد میں شامل ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ نئے قوانین کے بعد کم تجربہ رکھنے والے بھارتی پروفیشنلز کے لیے امریکا میں مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔

حمایت اور مخالفت

اس ویزا پروگرام کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ یہ امریکا میں صحت، تعلیم اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں مہارت کی کمی کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے برعکس ناقدین کا کہنا ہے کہ H-1B ویزوں کا استعمال اکثر کم تنخواہ والی جونیئر ملازمتوں کے لیے کیا جاتا رہا ہے، جس سے مقامی امریکی ورکرز متاثر ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…