پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تعمیراتی سریے، سیمنٹ اور اینٹوں کی تازہ ترین قیمتیں سامنے آگئیں

datetime 31  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) موجودہ معاشی حالات کے باعث مہنگائی کا دباؤ ہر شعبے پر اثر انداز ہو رہا ہے، اور اب تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں بھی واضح اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
سیلاب کے بعد ملتان کے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام کا آغاز تو کر دیا گیا ہے، تاہم تعمیراتی مٹیریل کی بڑھتی قیمتوں نے متاثرین کے لیے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ تعمیر میں استعمال ہونے والی اینٹوں کی فی ٹرالی قیمت 35 ہزار روپے سے بڑھ کر 50 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہے۔
ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ “نئی اینٹوں کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے، پہلے 35 ہزار میں ملتی تھی اور اب 50 ہزار روپے میں۔ اسی وجہ سے پرانی اینٹیں دوبارہ استعمال کر کے کام چلانا پڑ رہا ہے۔”
دوسری جانب بھٹہ مالکان کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ان کے بس سے باہر ہے، کیونکہ خام مال اور کوئلے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، پہلے کوئلہ 9 ہزار روپے فی ٹن دستیاب تھا جو اب بڑھ کر 15 سے 16 ہزار روپے فی ٹن ہو گیا ہے۔

سیمنٹ کی قیمتوں میں معمولی کمی
پاکستان بیورو برائے شماریات (پی بی ایس) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں سیمنٹ کی فی بوری اوسط ریٹیل قیمت 1369 روپے ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 0.29 فیصد کم ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ قیمت 1373 روپے فی بوری تھی۔
اسی طرح، جنوبی شہروں میں سیمنٹ کی فی بوری کی اوسط قیمت 1441 روپے ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے ہفتے کے برابر رہی۔

تعمیراتی سریے کی تازہ قیمتیں
مارکیٹ ذرائع کے مطابق، آج لوکل سریے کی فی ٹن کم از کم قیمت 2 لاکھ 12 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ قیمت 2 لاکھ 18 ہزار روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔
شہری سطح پر قیمتوں کی تفصیلات کے مطابق، کراچی میں سریے کی فی ٹن قیمت 2 لاکھ 18 ہزار روپے، لاہور میں 2 لاکھ 16 ہزار روپے، ملتان میں 2 لاکھ 12 ہزار روپے، اسلام آباد میں 2 لاکھ 14 ہزار روپے اور فیصل آباد میں 2 لاکھ 12 ہزار روپے تک دیکھی گئی ہے۔

برانڈڈ سریے کی مارکیٹ میں قیمتیں مزید زیادہ ہیں، جہاں کم از کم نرخ 2 لاکھ 33 ہزار روپے فی ٹن اور زیادہ سے زیادہ قیمت 2 لاکھ 42 ہزار روپے فی ٹن ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافہ عام شہریوں کے لیے گھر کی تعمیر کو مزید مشکل بنا رہا ہے، جب کہ مارکیٹ میں استحکام کے لیے حکومتی مداخلت ناگزیر ہو گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…