پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اڈیالہ میں بیٹھے شخص کو چاہیئے وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں اور میثاق استحکام پاکستان پر بات کریں

datetime 30  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کے لیے تسلی تشفی ایک بار پھر ضروری ہے جو پہلے بھی کی جا چکی ہے اور ایک دو بار مزید کی جائے تو مذاکرات کا نتیجہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ایک نجی نیوز چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بھارت کی فوجی طاقت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی فوج ہماری فوج سے پانچ گنا بڑی ہے مگر جنگ میں صرف فوج نہیں بلکہ سپہ سالار کی حکمت عملی بھی فیصلہ کن ہوتی ہے۔

انہوں نے جنگ یرموک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کی فتح مسلمانوں کی فوج کے سپہ سالار حضرت خالد بن ولید کی حکمت عملی کا نتیجہ تھی، جس کی بدولت رومن سلطنت شکست خوردہ ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی میدان میں کوئی پریشانی نہیں لیکن داخلی سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت اس پر کوئی غور نہیں ہو رہا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اپنے رویے میں نرمی لانی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں جیل میں تھے تو وکیل اور اہل خانہ کے علاوہ کسی سے نہیں ملے اور اس وقت کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات میں تسلسل اور مذاکرات اہم ہیں۔رانا ثنا اللہ نے وزیراعظم کی میثاق جمہوریت کی پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اڈیالا والے صاحب کو اس پر مثبت ردعمل دینا چاہیے تاکہ پاکستان کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا جا سکے،جس کا خواب ہمارے اجداد نے دیکھا تھا اور جس مقصد کے لیے پاکستان قائم کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…