ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

10سالہ پی ایس ایل فرنچائز معاہدہ ختم ہونے پر نئے معاہدے پرکام جاری، 2 نئی ٹیمیں بھی شامل ہونگی

datetime 25  اکتوبر‬‮  2025 |

لاہور (اسپورٹس ڈیسک) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10 سالہ فرنچائز معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد نئے معاہدے کی تیاریوں کا عمل باقاعدہ طور پر شروع کر دیا گیا ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق آئندہ سیزن سے دو نئی ٹیموں کو لیگ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔لاہور میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیر نے کی، جس میں چارٹرڈ فرم نے پی ایس ایل کی ویلیوایشن رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ کی تیاری محسن اقبال اور ان کی ٹیم نے کی۔پی سی بی کے مطابق یہ رپورٹ آئندہ 10 سالہ فرنچائز معاہدے کی بنیاد بنے گی، جس میں ٹیموں کی مارکیٹ ویلیو کو ازسرِنو طے کیا جائے گا۔ چارٹرڈ فرم اگلے چند روز میں نئی ویلیوایشن کا عمل مکمل کرے گی۔

نئے معاہدے کے تحت صرف وہی ٹیمیں بولی کے عمل میں شامل ہو سکیں گی جو اہلیت کے معیار پر پوری اتریں گی۔ ذرائع کے مطابق ویلیوایشن رپورٹ میں کئی نئی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ایک اہم تجویز کے مطابق فنانشل ماڈل میں ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں لین دین کا طریقہ اختیار کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح نئی فرنچائزز کے مالکانہ حقوق بھی روپے میں ہی فروخت کیے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے کے اندر رینیول کنٹریکٹ کا مسودہ تیار کر کے موجودہ فرنچائزز کو بھجوا دیا جائے گا۔ جو ٹیمیں یہ معاہدہ قبول نہیں کریں گی، ان کے حقوق اوپن بڈنگ کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ پی ایس ایل کی موجودہ چھ فرنچائزز کے معاہدے دسمبر میں ختم ہو رہے ہیں اور اب لیگ میں ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ 2015 میں ابتدائی فرنچائزز کی نیلامی کے دوران کراچی کو 2.6 ملین ڈالر، لاہور کو 2.5 ملین ڈالر، پشاور کو 1.6 ملین ڈالر، اسلام آباد کو 1.5 ملین ڈالر اور کوئٹہ کو 1.1 ملین ڈالر میں خریدا گیا تھا، جب کہ ملتان سلطانز کو 2017 میں 6.35 ملین ڈالر سالانہ فیس کے عوض شامل کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…