ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

صہیب مقصود کے ساتھ گاڑی کا بڑا فراڈ، کرکٹر نے مریم نواز سے مدد کی اپیل کردی

datetime 23  اکتوبر‬‮  2025 |

پاکستانی کرکٹر صہیب مقصود کے ساتھ گاڑی کی خرید و فروخت کے دوران بڑا مالی دھوکا ہو گیا، جس پر انہوں نے پنجاب حکومت سے انصاف کی اپیل کی ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں صہیب مقصود نے واقعے کی تفصیل بیان کی۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً نو ماہ قبل انہوں نے اپنی پرانی گاڑی ملتان کے ایک کار شوروم کے ذریعے فروخت کی تھی۔ خریدار نے 60 لاکھ روپے فوری ادا کیے اور گاڑی اپنے قبضے میں لے لی، یہ کہہ کر کہ بقیہ رقم اور کاغذات بعد میں مکمل کر لیے جائیں گے۔صہیب کے مطابق، وہ شخص آٹھ ماہ تک ادائیگی ٹالتا رہا۔ آخرکار، انہوں نے گاڑی کو ٹریک کرکے لاہور میں موجود خریدار تک رسائی حاصل کی۔ وہاں جا کر جب انہوں نے بتایا کہ یہ گاڑی ان کی ملکیت ہے اور ابھی تک پوری رقم ادا نہیں کی گئی، تو دوسری پارٹی نے الٹا بدتمیزی شروع کردی۔

کرکٹر نے بتایا کہ بعد میں شو روم کے نمائندے نے پیشکش کی کہ اگر وہ 60 لاکھ واپس کر دیں تو وہ گاڑی واپس لے آئیں گے، لیکن جب وہ رقم لے کر لاہور پہنچے تو سامنے والے نے سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے ہٹ دھرمی دکھائی اور صاف کہا کہ “اس گاڑی کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔”صہیب مقصود نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “کیا اس ملک میں اگر کسی کے رشتہ دار سیاست میں ہوں تو وہ عام آدمی سے اس کی محنت کی کمائی چھین سکتا ہے؟”انہوں نے مزید بتایا کہ بعد میں ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ گاڑی کو پیسوں سے کلیئر کرائیں۔ “میں نے 70 لاکھ روپے دے کر ایک فورچیونر گاڑی لی، لیکن بعد میں اس کے کاغذات جعلی نکلے، جس پر میں نے وہ گاڑی واپس کر دی۔ اب میری 70 لاکھ روپے کی رقم بھی واپس نہیں ملی، جبکہ میری پہلی گاڑی کی قیمت ڈیڑھ کروڑ روپے بنتی ہے۔”صہیب مقصود نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، پنجاب پولیس اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر انصاف فراہم کریں۔انہوں نے کہا، “اگر ایک کرکٹر ہونے کے باوجود میں ان لوگوں کے آگے بے بس ہوں تو سوچیں، ایک عام آدمی کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہوگا۔ میں عدالتوں کے چکر نہیں لگانا چاہتا، بس چاہتا ہوں کہ مجھے میری حق کی رقم واپس ملے۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…