بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’لڑائی مک گئی اے تسی کس گل دا احتجاج کر دے پہ او گھر جاؤ‘، خواجہ آصف کا مذہبی جماعت کے غزہ مارچ پر ردعمل

datetime 11  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی ہوچکی ہے، لیکن پاکستان میں بعض لوگ اب بھی احتجاج کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اب جبکہ اسرائیل اور حماس نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، فلسطینی عوام سکون کا سانس لے رہے ہیں، لیکن پاکستان میں ان کے نام پر جلوس نکالنے والے اب بھی جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

خواجہ آصف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ دو سال تک جب غزہ کے نہتے شہریوں پر ظلم و بربریت جاری تھی، معصوم بچوں کا قتل عام ہو رہا تھا، اس وقت دنیا بھر میں، خاص طور پر غیر مسلم ممالک کے عوام بڑی تعداد میں مظاہرے کر رہے تھے۔ تاہم اب جب فلسطین میں لڑائی رک چکی ہے، ہمارے ہاں کچھ لوگ ایسے احتجاج میں مصروف ہیں جس کی اب کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔

انہوں نے کہا،

“یہ زیادتی ہے کہ کسی نے انہیں بتایا ہی نہیں کہ لڑائی ختم ہو گئی ہے۔ بھائیو، اب تو فلسطینی خوشی منا رہے ہیں، آپ کس بات کا احتجاج کر رہے ہو؟ گھر جاؤ، مٹھائیاں بانٹو!”

یاد رہے کہ ایک مذہبی جماعت نے گزشتہ روز لاہور سے اسلام آباد تک غزہ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ اس مارچ کے دوران شرکا اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں کئی افراد زخمی ہوئے، جن میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ادھر لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹرو بس اور اسپیڈو بس سروس تیسرے روز بھی معطل ہے، جس سے شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث متعدد راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ مری روڈ پر ٹریفک جام ہونے سے ایمبولینسز بھی پھنس گئیں، جس کے باعث ایک بزرگ مریض کو ایمبولینس میں ہی ڈرِپ لگا کر علاج کیا گیا۔

کنٹینر لگنے سے موٹر سائیکل سواروں کے راستے بھی بند ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات پیش آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…