پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

برآمد کنندگان کا دباؤ نظر انداز، ریفنڈز کے اجرا میں 79 فیصد کمی

datetime 21  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) برآمدکنندگان کی جانب سے ریفنڈز کے اجرا کے لیے شدید دباو¿ کے باوجود ایف بی آر نے اکتوبر میں79.08 فیصد کم ریفنڈ جاری کیے، یکم سے 19اکتوبر تک ٹیکس دہندگان کو 1 ارب 70 کروڑ روپے کے ریفنڈز دیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 8 ارب 12 کروڑ 90 لاکھ روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے تھے۔
”ایکسپریس“ کو دستیاب ٹیکس وصولیوں کے عبوری اعداوشمار پر مبنی دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی رواں مالی سال کے دوران اب تک خالص ٹیکس وصولیاں730 ارب روپے سے تجاوز کر گئیں جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 626.24 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں سے16.6 فیصد زیادہ ہیں، رواں مالی سال 19اکتوبر تک براہ راست ٹیکس یا انکم ٹیکس وصولیاں 273.34ارب روپے رہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں215.32 ارب روپے کی وصولیوں سے26.9فیصد زیادہ ہیں۔
ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں320.11 ارب روپے کی خالص وصولیاں ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں299.21ارب روپے کی وصولیوں سے 7فیصد زیادہ ہیں ، رواں مالی سال 19اکتوبر تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں 9.6فیصد بڑھ کر 40.05ارب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ مالی سال 36.55 ارب تک محدود تھیں، گزشتہ 3ماہ 19دنوں میں ایف بی آر نے سال بہ سال 28.6فیصد کے اضافے سے 69.65ارب روپے کی کسٹمز ڈیوٹی بھی وصول کی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 75.16ارب روپے کی وصولیاں ہوئی تھیں۔
اعدادوشمار کے مطابق ایف بی آر اکتوبرکے پہلے 19 دنوں میں 129.95 ارب روپے کا خالص ٹیکس جمع کر سکا جن میں 33.67 ارب روپے کاانکم ٹیکس شامل ہے، اس طرح گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں25.63 ارب روپے کی وصولیوں سے رواں اکتوبر میں اب تک31.4 فیصد زیادہ انکم ٹیکس جمع ہوا، ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں سے سیلز ٹیکس کی مد میں 66.69روپے کی خالص وصولیاں ہوئیں جو گزشتہ مالی سال میں 41.003 ارب روپے کی وصولیوں سے62.7زیادہ ہیں، اکتوبر میں اب تک فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیاں 13.3فیصد بڑھ کر 12.56 ارب روپے رہیں جو گزشتہ مالی سال 11.08 ارب رہی تھیں، علاوہ ازیں کسٹمز ڈیوٹی کی وصولیاں 60فیصد بڑھ کر17.02ارب روپے تک پہنچ گئیں جو گزشتہ اکتوبر میں 19 تاریخ تک 10.64ارب تھیں۔
اعدادوشمار میں بتایا گیاکہ رواں مالی سال 19 اکتوبر تک ٹیکس دہندگان کو 42.04ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے جو گزشتہ مالی سال2014-15 کے اسی عرصہ میں جاری کردہ39.07 ارب روپے کے ریفنڈز سے 7.6فیصد زیادہ ہیں تاہم رواں ماہ 19تاریخ تک ٹیکس دہندگان کو 1 ارب 70 کروڑ روپے کے ریفنڈز دیے گئے جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں جاری کردہ8.13 ارب روپے کے ریفنڈز سے 79.08 فیصد کم ہیں۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…