ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کرکٹ کو بچانا ہے تو بابر اور رضوان کو واپس لانا ہوگا، ماہر علم نجوم

datetime 16  ستمبر‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی) بھارت سے شکست کے بعد معروف ماہر علم نجوم نے پاکستان کرکٹ کی بقا بابر اور رضوان کی واپسی سے مشروط کی ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہر علم نجوم آغا بہشتی نے پیشگوئی کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ کی ترقی اور بقا کو بابر اعظم اور محمد رضوان کی ٹیم میں واپسی سے مشروط کر دیا ہے۔آغا بہشتی نے کہا کہ جو کھلاڑی عروج پر جاتا ہے، اس کو نیچے لانے کی کوشش ہوتی ہے اور یہی بابر اعظم کے ساتھ ہو رہا ہے۔

یہ لوگ بابر اعظم کی شہرت سے ڈرتے ہیں کہ کل وہ میچ میں سب سے زیادہ اسکور نہ کر لے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بابر اعظم کی ٹیم کو اتنی ضرورت ہے، جیسے کہ مچھلی کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر پاکستان کرکٹ کو بچانا ہے تو بابر اعظم اور رضوان کو ٹیم میں واپس لانا ہوگا۔ یہ دونوں سلمان آغا اور فہیم اشرف سے بہتر تو ہیں۔ماہر نجوم کا کہنا تھا کہ جس کھلاڑی نے پاکستان کی طرف سے ٹی 20 کرکٹ میں 4 ہزار سے زیادہ رنز بنا رکھے ہوں۔ ٹیسٹ اور ون ڈے میں بھی رنز کا ڈھیر لگا رکھا ہو۔اس کو ٹیم سے باہر رکھا ہوا ہے۔ ہر کھلاڑی چھکے نہیں مارتا۔ ٹیم میں سینئر کو رکھ کو جونیئر کو سکھایا جاتا ہے اور اسی طرح کرکٹ آگے بڑھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم دو سال تک آئی سی سی رینکنگ میں نمبر ون بلے باز رہا، کسی اور پاکستانی کو یہ اعزاز حاصل ہوا۔ ٹی وی پر بیٹھ کر تجزیے کرنا اور باتیں کرنا آسان ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ بابر اعظم کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…