پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

کرپٹو کرنسی کی زیادہ تر ڈیلنگ ہنڈی اور حوالے کے ذریعے ہونے کا انکشاف

datetime 10  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کرپٹو کرنسی، ٹیکسیشن، منی لانڈرنگ اور کسٹمز کے کردار پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں جبکہ اجلاس میں کرپٹو کرنسی کی زیادہ تر ڈیلنگ ہنڈی اور حوالے کے ذریعے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا، جس میں ورچوئل ایسٹ بل 2025 پر تفصیلی غور کیا گیا۔سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے بتایا کہ پاکستان میں ورچوئل ایسٹ کی کوئی ریگولیشن موجود نہیں تھی، حکومت اب شفافیت اور ریگولیشنز متعارف کروا رہی ہے۔

سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ملک میں مختلف قسم کے ٹیکسز عوام پر بوجھ ہیں، اگر پورے ملک میں یکساں طور پر صرف 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے تو ٹیکس کی شرح کم ہونے کے باوجود وصولی 40 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ کمیٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے انکشاف کیا کہ کرپٹو کرنسی کی زیادہ تر ڈیلنگ ہنڈی اور حوالے کے ذریعے ہو رہی ہے، اور پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کرپٹو میں دنیا بھر میں آٹھویں نمبر پر ہے۔سینیٹر انوشہ رحمان نے شکایت کی کہ کوئٹہ سے تفتان تک 23 چیک پوسٹس پر لوگوں سے بھتہ وصول کیا جاتا ہے، اگر کسٹمز سہولت دیتا تو ایسی شکایات سامنے نہ آتیں۔سینیٹر محسن عزیز نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اغوا برائے تاوان کے کیسز میں بھی کرپٹو کرنسی استعمال ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب تاوان کے لیے نقد رقم کے بجائے کرپٹو مانگا جا رہا ہے، جس سے منی لانڈرنگ کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔وزارت قانون کے کنسلٹنٹ نے بتایا کہ بل کے تحت ایک آزاد بورڈ قائم کیا جائے گا۔اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر نے کہا کہ کرپٹو کرنسی اس وقت قانونی طور پر گرے ایریا میں ہے مگر غیر قانونی نہیں، پاکستانی نوجوان کرپٹو کرنسی کے استعمال میں مہارت رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…