پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

سیلاب کے اثرات’ سبزیاں اور پھل مہنگے، بازاروں میں پیاز ٹماٹر نایاب

datetime 8  ستمبر‬‮  2025 |

لاہور،اسلام آباد(این این آئی)سیلاب نے جہاں کھیت کھلیان اجاڑ دیے، وہیں شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی مشکل بنا دی ہے، لاہور کے بازاروں میں سزیوں اور پھلوں کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ اسلام آباد کے بازاروں سے ٹماٹر اور پیاز غائب ہوگئے۔لاہور میں گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران چکن، سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ مرغی کے گوشت کا سرکاری ریٹ 595 روپے فی کلو مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں 600 سے 650 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے جبکہ صافی گوشت 720 اور بون لیس ایک ہزار 30 روپے کلو تک جا پہنچا ہے۔

سبزیوں میں ٹماٹر 95 کے بجائے 250، پیاز 60 کے بجائے 90، آلو 70 کے بجائے 90، بیگن 100 کے بجائے 200، بھنڈی 150 کے بجائے 200، کھیرا 100 کے بجائے 150 اور شملہ مرچ 150 کے بجائے 300 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔پھلوں کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ کیلا 120 کے بجائے 150 روپے فی درجن، انگور 400 کے بجائے 500 سے 600 روپے کلو، سیب 200 کے بجائے 250، آڑو 150 کے بجائے 250، گرما 170 کے بجائے 200 اور امرود 100 کے بجائے 150 سے 200 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔اسلام آباد میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں، وہاں بازاروں میں کھانے پینے کی اشیا میں سے پیاز اور ٹماٹر غائب ہوگئے ہیں۔شہری کہتے ہیں کہ مصالحہ جات کی بنیادی سبزیوں کے بغیر کھانا بنانا مشکل ہوگیا ہے جبکہ اس حوالے سے دکانداروں کا مؤقف ہے کہ منڈی میں قیمتیں بہت زیادہ ہیں لیکن حکومت ہم سے کم ریٹ پر فروخت کا تقاضا کرتی ہے، نقصان ہم کیسے برداشت کریں؟طلب زیادہ ہو اور رسد کم، تو قیمتیں اوپر جاتی ہیں لیکن حالیہ سیلاب کے بعد حکومت اور منڈی کے بیچ فرق کا بوجھ آخرکار عوام پر ہی پڑ رہا ہے.شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے جبکہ دکانداروں کا مؤقف ہے کہ سیلاب نے فصلیں تباہ کر دی ہیں اسی لیے قیمتیں بڑھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…