پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ

datetime 30  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومتِ پاکستان نے حال ہی میں نیو انرجی وہیکلز کے فروغ کیلئے قومی سطح پر ایک مراعاتی پروگرام کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد پالیسی اقدامات، سبسڈیز اور دیگر ترغیبات کے ذریعے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی صنعت کو فروغ دینا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق 2030 تک ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کرنے کا امکان ہے۔ چین کی معروف کمپنی لیتن آٹو گروپ نے پنجاب میں چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے ایک کارخانے کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ گوادر پروکے مطابق پنجاب کے وزیر برائے صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور پنجاب کو پاکستان میں صاف توانائی کی ٹرانسپورٹ کی قیادت کرنی چاہیے۔

گوادر پروکے مطابق چینی نئی توانائی کی گاڑیوں کی معروف کمپنی بی وائی ڈی (BYD) بھی جولائی یا اگست 2026 میں پاکستان میں تیار کردہ اپنی پہلی گاڑی متعارف کروانے جا رہی ہے تاکہ خطے میں الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جا سکے۔ کمپنی کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق کراچی کے قریب کارخانے کی تعمیر اپریل سے جاری ہے اور ابتدائی طور پر یہ سالانہ 25,000 گاڑیاں تیار کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ گوادر پروکے مطابق ابتدائی طور پر فیکٹری میں درآمد شدہ پرزہ جات کو اسمبل کیا جائے گا جبکہ کچھ نانـالیکٹرک پرزے مقامی طور پر تیار کیے جائیں گے۔ ابتدائی پیداوار صرف پاکستانی مارکیٹ کے لیے ہوگی، لیکن مستقبل میں دیگر دائیں ہاتھ کی ڈرائیونگ والی مارکیٹوں کو بھی برآمد کرنے کا امکان موجود ہے، بشرطیکہ نقل و حمل کے اخراجات اور مارکیٹ کی معاشی صورتحال موزوں ہوں۔

گوادر پروکے مطابق دوسری جانب، چینی الیکٹرک گاڑی ساز کمپنی ایم جی (MG) پہلے ہی پاکستان میں پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو ویز فروخت کر رہی ہے، جبکہ اس کی حریف کمپنی ہیول (Haval) بھی جلد پاکستانی مارکیٹ میں قدم رکھنے والی ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیائی ملک میں فی الحال الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ اسٹیشنز کی کمی ہے، اس لیے پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیاں مقامی صارفین کے لیے زیادہ عملی انتخاب بن چکی ہیں۔ گوادر پروکے مطابق بی وائی ڈی پاکستان کے نائب صدر برائے سیلز و اسٹریٹجی، دانش خالق کے مطابق 2025 تک پاکستان کی الیکٹرک اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی مارکیٹ 2024 کے مقابلے میں تین سے چار گنا بڑھ جائے گی، اور مارکیٹ کا حجم تقریباً 3,000 سے 4,000 گاڑیوں تک پہنچ جائے گا۔ بی وائی ڈی اس مارکیٹ میں 30 فیصد سے 35 فیصد حصہ حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔ گوادر پروکے مطابق صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی اس بڑھتی ہوئی دلچسپی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کے ای وی سیکٹر پر اعتماد کرتی ہیں، جو اگرچہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، مگر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور حکومتی مراعاتی پالیسیوں کے باعث اس میں خاصی صلاحیت موجود ہے۔ گوادر پروکے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان اپنی 20 فیصد سے زائد ایندھن کی ضروریات درآمد سے پوری کرتا ہے۔ نئی توانائی کی گاڑیوں کو اپنانے کے ساتھ ساتھ ملک بتدریج درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر سکے گا، شہری فضائی آلودگی میں کمی لائے گا اور اپنے کاربن نیوٹرل اہداف کے حصول کو تیز کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…