پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

سونے کے زیورات کی برآمدپر پابندی، لاکھوں ڈالرز کے آرڈر ملتوی

datetime 27  اگست‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)ملک میں سونے کے زیورات کی ایکسپورٹ پر پابندی کے باعث لاکھوں ڈالرز کے آرڈرز ملتوی ہو رہے ہیں۔ایس آر او 760 کی معطلی کے باعث سونے کے زیورات کی برآمدات بدترین بحران کا شکار ہوگئیں، جس کے نتیجے میں غیر ملکی خریداروں نے پاکستانی ایکسپورٹرز کو نوٹس بھیجتے ہوئے ایڈوانس گولڈ کی واپسی اور واجبات کی ادائیگی روکنے کی شرط عائد کردی ہے۔متحدہ عرب امارات کے خریداروں نے اس ضمن میں پاکستانی سفارتخانے کو بھی مکتوب ارسال کرکے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔پاکستان جیمز جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایس آر او 760 کی معطلی کے بعد مارچ 2025ء میں موصول ہونے والے آرڈرز بھی مکمل نہ ہوسکے، جس کے باعث گزشتہ 4 ماہ میں ایک گرام زیورات بھی برآمد نہ ہوسکا اور ترسیلات زر کو 15 ملین ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔صورتحال یہ ہے کہ مجموعی طور پر 6 ملین ڈالر مالیت کا 50 کلو ایڈوانس گولڈ ملک میں پھنسا ہوا ہے، جو غیر ملکی خریداروں نے زیورات کی تیاری کے لیے فراہم کیا تھا۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ اگر برآمدات فوری بحال نہ کی گئیں تو پاکستان کی ساکھ عالمی سطح پر بری طرح متاثر ہوگی اور وہ مارکیٹ، جو 50 سال کی محنت سے حاصل کی گئی تھی، بھارت کے ہاتھوں میں جارہی ہے۔سابق چیئرمین حبیب الرحمن کے مطابق 8 بڑے ایکسپورٹرز کے پاس 60 ملین ڈالر کے آرڈرز موجود تھے، جو مشکل مقابلے کے بعد بھارت سے چھینے گئے تھے۔ ان آرڈرز کی تیاری کے لیے غیر ملکی خریداروں سے 50 کلو ایڈوانس گولڈ حاصل کرکے درآمد کیا گیا تھا، تاہم 6 مئی کو ایس آر او 760 کی معطلی سے نہ صرف یہ آرڈرز معطل ہوگئے بلکہ ایڈوانس گولڈ کی واپسی کا راستہ بھی بند ہوگیا۔ اب غیر ملکی خریدار قانونی چارہ جوئی پر غور کر رہے ہیں۔ایکسپورٹرز نے بتایا کہ وہ معاملے کے حل کے لیے متعلقہ وزارتوں اور اعلیٰ سرکاری حکام سے کئی بار ملاقات کرچکے ہیں اور انہیں ایکسپورٹ بحالی کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں، مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ وعدے پورے نہیں ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…