جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب اور پختونخوا میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع، نالے بپھر گئے، مختلف مقامات پر سیلاب کا خطرہ

datetime 18  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مون سون کے ساتویں اسپیل کے باعث پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا تازہ سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس سے کئی مقامات پر نشیبی علاقے زیر آب آنے کے ساتھ ساتھ سیلاب کے خطرات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ملتان، جھنگ اور کبیر والا میں بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا، جبکہ چکوال اور گردونواح میں وقفے وقفے سے تین گھنٹوں تک جاری موسلا دھار بارش کے باعث متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔ کلر کہار کے نشیبی علاقے بھی پانی میں ڈوب گئے جس کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو ندی نالوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی طرح خانیوال، کوٹ ادو، سرگودھا اور وہاڑی سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بھی بارش کا سلسلہ وقفوں کے ساتھ جاری ہے۔خیبر پختونخوا کے متاثرہ ضلع بونیر میں بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوتے ہی ریلیف آپریشن میں مشکلات پیش آنے لگیں، جبکہ تیز بارش کے سبب متاثرہ دیہات کو جوڑنے والا عارضی پل ٹوٹنے کے خدشے سے مقامی آبادی پریشانی کا شکار ہے۔ پشاور میں بارش کے بعد کوہاٹ روڈ، چارسدہ روڈ اور گل آباد سمیت کئی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہوگیا، جبکہ زریاب کالونی، گلبرگ اور فقیر آباد کے مکین بھی پانی بھر جانے سے شدید متاثر ہوئے۔ مردان میں بھی بارش کے نتیجے میں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہوگیا، شہریوں کے مطابق ناقص نکاسی نظام کے باعث سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مون سون کا سلسلہ ستمبر کے ابتدائی دس دنوں تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

ادارے کے مطابق آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں آزاد کشمیر کے نیلم، پونچھ اور باغ جبکہ خیبر پختونخوا کے چترال، دیر اور چارسدہ میں سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے ضلع تھرپارکر کی تحصیل ڈیپلو میں ایک رات کے دوران 112 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہوگیا، اللہ ولا چوک، بدین اسٹاپ اور تعلقہ اسپتال روڈ بدستور زیرِ آب ہیں۔ میونسپل کمیٹی کے چیئرمین کے مطابق پمپنگ مشینوں کے ذریعے پانی کی نکاسی کا عمل جاری ہے۔دوسری جانب آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں آٹھ مقام سمیت بالائی اور زیریں علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جاگراں ویلی، شونٹر، شاردہ، لوات بالا اور دیگر مقامات پر مسلسل بارش کے باعث مقامی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مرکزی شاہراہ نیلم سے تاوبٹ تک سڑک کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے جبکہ دیگر متاثرہ سڑکوں اور پلوں کی بحالی پر کام جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…