جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

صرف ضلع دیر میں 1000 سے زائد اموات ہو سکتی ہیں، وزیر اعظم کے معاون نے خدشہ ظاہر کر دیا

datetime 18  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کووزیر اعظم کے معاون خصوصی اختیار ولی نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے باعث صرف ضلع دیر میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے بڑھ سکتی ہے۔اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کر کے آیا ہوں، خیبرپختونخوا میں انسانی جانوں کا ایسا المیہ اپنی آنکھوں سے دیکھا جسے بیان کرنا مشکل ہے۔ ان کے مطابق اب تک صرف وہی اموات رپورٹ ہوئی ہیں جن کی لاشیں اسپتالوں تک پہنچائی گئیں۔

اختیار ولی کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں لائی گئی لاشوں کی تعداد تقریباً 300 ہے، جبکہ ایک ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتا ہیں اور کئی مقامات پر اجتماعی تدفین بھی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دیر میں صورتحال انتہائی سنگین ہے اور وہاں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بونیر کے علاقے چغرزی میں بھی تباہی کے بڑے مناظر دیکھنے کو ملے، جبکہ بشونی گاؤں مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ ان کے مطابق ریلوں کے ساتھ بہنے والے پتھر اتنے بڑے تھے جیسے کوئی ٹرک ہو، دریا کے کنارے موجود گھر مکمل طور پر بہہ گئے، اور ان کی تباہی کی کوئی باقاعدہ رپورٹ موجود نہیں۔وزیر اعظم کے معاون نے کہا کہ میں نے 2005 کا زلزلہ اور 2010 کا سیلاب بھی دیکھا ہے، لیکن بونیر سے واپسی پر دل انتہائی بوجھل تھا۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا میں صرف این ڈی ایم اے کام کرتی دکھائی دی، صوبائی حکومت کی جانب سے چند ٹریکٹرز کے علاوہ کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے۔ اگر این ڈی ایم اے کی ہیوی مشینری نہ ہوتی تو اب تک کئی اہم سڑکیں بند پڑی ہوتیں، انہی کی بدولت بڑے پتھروں کو ہٹا کر راستے بحال کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…