جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے، معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا، فیلڈ مارشل عاصم منیر

datetime 17  اگست‬‮  2025 |

برسلز (این این آئی)فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے،خدا نے مجھے پاکستان کا محافظ بنایا ہے، اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق برسلز میں صحافیوں سے گفتگو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ تبدیلی کے بارے میں افواہیں سراسر جھوٹ ہیں، یہ افواہیں پھیلانے والے حکومت اور مقتدرہ دونوں کے مخالف ہیں۔اپنے دورہ برسلز کے دوران ایک تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے مجھے پاکستان کا محافظ بنایا ہے، اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔

سینئر صحافی سہیل وڑائچ کے سوال پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیاسی مصالحت سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے۔آرمی چیف نے سیاسی مصالحت پر گفتگو کے دوران تخلیق آدم سے متعلق قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تخلیق آدم کے بعد ابلیس کے سوا سب نے آدم کو خدا کا حکم سمجھ کر قبول کیا، معافی مانگنے والے فرشتے رہے اور معافی نہ مانگنے والا شیطان بن گیا۔خارجہ پالیسی کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کو چین اور امریکا سے تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کا طویل تجربہ ہے، ایک دوست کے لیے دوسرے دوست کو قربان نہیں کریں گے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کی خواہش حقیقی ہے، اسی لیے نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے میں پہل کی ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کو خبردار کیا کہ بھارت پراکسیز کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ نہ کرے۔ ایک ایک پاکستانی کے خون کا بدلہ لینا ہم پر واجب ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…