جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

بونیر میں قیامت صغری کے مناظر، جاں بحق افراد کی تعداد 184 ہوگئی

datetime 16  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلابی ریلوں سے جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 307 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ ضلع بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں اب تک 184 قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔اطلاعات کے مطابق صوبے کے متاثرہ اضلاع میں بونیر، سوات، شانگلہ، بٹگرام، باجوڑ اور مانسہرہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور مزید فوجی دستے بھی متاثرہ مقامات پر روانہ کر دیے گئے ہیں۔بونیر میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں پشونئی اور پیر بابا گاؤں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

پشونئی میں 70 مکانات زمین بوس ہوگئے جبکہ ملبے سے اب تک 20 افراد کی لاشیں نکالی جاچکی ہیں جو قریبی علاقوں میں منتقل کی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بونیر سعود خان نے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام اور کمشنر ملاکنڈ کے ہمراہ متاثرہ دیہات کا دورہ کیا۔ حکام نے متاثرین سے ملاقات کی، نقصانات کا جائزہ لیا اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر ڈی پی او نے پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون پر بریفنگ دی اور ریلیف آپریشن میں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔سیلابی ریلے سے علاقے میں بجلی کا نظام مفلوج ہوگیا، پیر بابا بازار بھی پانی کی زد میں آیا جبکہ پیر بابا مزار کے احاطے میں بھی پانی داخل ہوگیا۔ ریسکیو ٹیموں نے رات بھر آپریشن جاری رکھا اور متاثرہ دیہاتوں سے ملبہ ہٹانے کا کام تیزی سے کیا جا رہا ہے۔ترجمان ریسکیو کے مطابق بونیر کی تین تحصیلوں میں خدشہ ہے کہ مزید افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر شروع کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…