جمعرات‬‮ ، 16 اپریل‬‮ 2026 

نورا فتیحی کا آئٹم سانگ دیکھنے کے بعد پاکستانی آئٹم سانگ کون دیکھے گا؟ یاسر حسین

datetime 6  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)یاسر حسین، معروف پاکستانی اداکار اور ہدایتکار، نے حالیہ انٹرویو میں فلمی صنعت کو درپیش مسائل اور ثقافتی پابندیوں پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے یہ طے کرنا ہوگا کہ ہمارا اصل ثقافتی ورثہ کون سا ہے — کیا وہ دور جو 70 کی دہائی سے پہلے کا تھا، یا وہ جو بعد میں پروان چڑھا؟انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اگر ماضی کی فلموں، خاص طور پر میڈم نور جہاں کی پرفارمنسز کو دیکھا جائے تو ان میں خوبصورت انداز میں فلمائے گئے آئٹم گانے شامل تھے، جو نہ صرف دلکش تھے بلکہ ثقافت کا حصہ بھی تصور کیے جاتے تھے۔ لیکن آج وہ عناصر یکدم غیر متعلقہ یا ممنوع کیوں ہو گئے؟ یاسر کا کہنا ہے کہ یا تو ہم نے اپنے کلچر کو یکسر بدل دیا ہے یا ہم پیچھے کی جانب لوٹ رہے ہیں۔

بلوچستان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو حقائق وہاں کے لوگ روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں، اگر وہی سچائی فلم یا شارٹ فلم کے ذریعے دکھانے کی کوشش کی جائے تو سنسر شپ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی ہم ایسے وقت میں جی رہے ہیں جہاں ہم سچ کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ دنیا کھلے عام حقائق کو قبول کرتی ہے۔انہوں نے اپنی فلم جاوید اقبال کا حوالہ دیا، جو ایک سنجیدہ اور حساس موضوع پر بنائی گئی تھی، لیکن اس پر سنسر شپ نے اس کی اصل روح کو متاثر کیا۔ یاسر کا کہنا تھا کہ اگر امریکی معاشرہ جیفری ڈاہمر جیسے مجرم پر فلم بنا سکتا ہے تو ہمیں بھی جاوید اقبال جیسے حقیقی واقعات پر فلم بنانے کی آزادی ہونی چاہیے۔

آئٹم نمبرز پر اپنی رائے دیتے ہوئے یاسر حسین نے کہا کہ اگرچہ وہ پاکستانی فلموں میں شامل آئٹم سانگز کے حامی نہیں، لیکن اگر یہ شامل کیے جائیں تو وہ اعلیٰ معیار کے ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق جب ناظرین نورا فتیحی جیسے فنکاروں کے آئٹم نمبرز دیکھتے ہیں تو پاکستانی متبادل ان کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ یاسر نے تنقید کی کہ باؤنڈریز قائم رکھ کر اور ڈانس دکھا کر ایک ہی وقت میں دو رخ اختیار نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے فلم انڈسٹری میں سچائی دکھانے اور معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ پاکستانی سینما عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…