پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان سے ایران اور خلیجی ممالک کے لیے فیری سروس کے آغاز کی راہ ہموار ، لائسنس جاری

datetime 5  اگست‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی) پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے لیے پہلی بار فیری لائسنس جاری کر دیا،ابتدائی مرحلے میں فیری سروس کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے شروع کی جائے گی۔تفصیلات کے مطابق وزارت بحری امور نے بین الاقوامی فیری آپریٹر “سی کیپرز کو پاکستان کی تاریخ کا پہلا فیری سروس لائسنس جاری کر دیا،جس کے تحت کمپنی پاکستان کو ایران اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی)کے ممالک سے سمندری راستے کے ذریعے منسلک کرے گی۔یہ منظوری لائسنسنگ کمیٹی کے ایک اعلی سطحی اجلاس کے بعد دی گئی، جس میں وزارت بحری امور، دفاع، خارجہ، داخلہ کے حکام کے علاوہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور پورٹ اینڈ شپنگ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے اس فیصلے کو ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جو وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن اور پاکستان کی قومی بحری پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔وزیر نے کہا کہ اس سروس سے علاقائی رابطے، مذہبی سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ فیری سروس ہر سال لاکھوں مسافروں کو سہولت فراہم کرے گی، خصوصا ان زائرین کو جو ایران اور عراق کا سفر کرتے ہیں، جبکہ خلیجی ممالک جانے والے مزدوروں اور سیاحوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔وزیر بحری امور کے مطابق یہ سروس زمینی راستوں پر دبا کم کرے گی اور ہوائی سفر کے مقابلے میں اخراجات میں نمایاں کمی لائے گی، جس سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور مذہبی مسافروں کو خاطر خواہ فائدہ ہوگا۔

ابتدائی مرحلے میں فیری سروس کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں سے شروع کی جائے گی، جہاں جدید سہولیات سے آراستہ بحری جہاز تعینات کیے جائیں گے تاکہ مسافروں کو محفوظ، آرام دہ اور سستا سفر میسر آ سکے۔ مستقبل میں مانگ اور باہمی معاہدوں کی بنیاد پر روٹس اور بندرگاہوں کی تعداد بڑھانے کا بھی منصوبہ ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ یہ اقدام پاکستان کی “بلو اکانومی کے فروغ، تجارتی لاجسٹکس کی بہتری اور سمندری سیاحت کے فروغ کی قومی حکمت عملی کا حصہ ہے، جو علاقائی سطح پر پائیدار سمندری نقل و حمل کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…