منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کیلئے 4.5 ارب کی لاگت سے جدید آلات کی خریداری،77 سائنسدانوں کی بھرتی کا عمل جاری

datetime 21  جولائی  2025 |

لاہور( این این آئی)سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کا دورہ کیا اور اتھارٹی کی کارکردگی اور مستقبل کے اہداف بارے خصوصی اجلاس کی صدارت کی۔ ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی ڈاکٹر محمد امجد نے سیکرٹری داخلہ پنجاب کو بریفنگ دی۔ اس موقع پر ڈی جی پنجاب ایگریکلچر فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی، ایڈیشنل ڈی جی فرانزک، ایڈیشنل سیکرٹری پولیس و دیگر افسران بھی موجود تھے۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فرانزک سائنس اتھارٹی 4.5 ارب کی لاگت سے جدید آلات کی خریداری کر رہی ہے جس سے اتھارٹی کے پرانے آلات و مشینری کو 700 جدید آلات سے تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اتھارٹی کے مختلف شعبہ جات کیلئے 77 سائنسدانوں کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ ڈی جی فرانزک اتھارٹی نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی پی این اے سی کے عالمی معیار کے مطابق تسلیم شدہ ادارہ ہے اور اتھارٹی کی ڈی این اے، فائر آرمز، نارکوٹکس، فنگر پرنٹس، دستاویزات، ٹاکسیکولوجی اور آڈیو ویڈیو اینالسز کی رپورٹس کو عالمی سطح پر مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔

فرانزک سائنس اتھارٹی نے 200 سے زائد سائنسدانوں کو بین الاقوامی اداروں سے تربیتی کورسز کروائے ہیں۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کے رزلٹس کو دنیا بھر میں مستند حوالہ تسلیم کیا جاتا ہے جو ہم سب کیلئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے ماڈرنائزیشن اینڈ ایکسٹینشن پروگرام کو 100 فیصد میرٹ پر مکمل کیا جائے اور اتھارٹی کے سائینسدانوں کو عالمی اداروں سے تربیت کروائی جائے۔ سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ فرانزک سائنس کے میدان میں برین ڈرین کو روکا جائے اور فرانزک سائنس اتھارٹی کے تربیت یافتہ سائینسدانوں کو مارکیٹ بیسڈ پرکشش مراعات دی جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ میانوالی، رحیم یار خان اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایویڈنس رسیونگ یونٹس جلد مکمل کیے جائیں۔ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے ہدایت کی کہ پنجاب کے دیگر ڈویژنز کی طرز پر گجرات میں کرائم سین یونٹ کی تعمیر جلد مکمل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی ڈین اے کا ڈیٹا بیس مضبوط کرے جو جرائم پیشہ عناصر کی جلد گرفت میں مددگار ثابت ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…