پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کو ٹونا مچھلی کی برآمد سے 200ملین ڈالرز آمدن متوقع

datetime 7  جولائی  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان کو آئندہ برسوں میں ٹونا مچھلی کی برآمدات سے 200ملین ڈالر زکی آمدنی متوقع ہے، حکومت نے ماہی گیری کے شعبے میں بڑی اصلاحات متعارف کروا دی ہیں۔وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے اعلان کیا کہ پاکستان نے انڈین اوشین ٹونا کمیشن (IOTC)سے 25ہزار میٹرک ٹن ٹونا مچھلی کا کوٹہ حاصل کر لیا ہے، جس میں15ہزار ٹن ییلوفن ٹونا اور 10ہزار ٹن اسکیپ جیک ٹونا شامل ہیں، یہ کوٹہ ماحولیاتی تحفظ اور سمندری حیاتیات کی پائیدار دیکھ بھال کے اصولوں کے تحت حاصل کیا گیا ہے۔

وزیر بحری امور نے اسے پاکستان کے ٹونا سیکٹر کیلیے سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی منڈی میں ٹونا کی قیمت فی کلو 5سے 7ڈالر تک ہے، جو ویلیو ایڈیڈ پراسیسنگ کے ساتھ اور بھی بڑھ سکتی ہے،اگرچہ پاکستان ہر سال45ہزار میٹرک ٹن سے زائد ٹونا پکڑتا ہے تاہم ضابطہ نہ ہونے کے باعث اس قیمتی وسیلے سے مکمل معاشی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا تھا، اب نیشنل فشریز اینڈ ایکوا کلچر پالیسی کے تحت ضابطوں کو یکجا کر کے ماحول دوست اور منافع بخش ماہی گیری کو فروغ دیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے بین الاقوامی ماحولیاتی وعدوں کے مطابق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سرکاری افسر کو پہلی بار IOTCکی اسٹینڈنگ کمیٹی آن ایڈمنسٹریشن اینڈ فنانس کا چیئرمین منتخب کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو مستحکم کرے گا، غیر پائیدار طریقے جیسے گِل نیٹنگ اور ٹرالنگ کو ختم کر کے ماحول دوست لانگ لائننگ کو متعارف کرایا جا رہا ہے، جس سے ناپسندیدہ شکار (بائی کیچ)میں کمی اور سمندری ماحولیاتی توازن کو بہتر بنایا جائے گاجبکہ ایف اے او نے اس اقدام کی حمایت میں مقامی ماہی گیروں کو10لانگ لائن فشنگ کٹس مفت فراہم کی ہیں، اس تبدیلی سے ٹونا کی فی کلو قیمت 2ڈالر سے بڑھ کر 8ڈالر تک ہو سکتی ہے۔برآمدی عمل کو مزید موثر بنانے کیلیے سرٹیفیکیشن اور ٹیسٹنگ فیس میں ترمیم کی گئی ہے، جس سے آمدنی 48ملین روپے سے بڑھ کر 250ملین روپے ہو گئی ہے، کراچی کے کورنگی فشریز ہاربر کی بحالی جاری ہے تاکہ یورپی یونین سمیت دیگر مارکیٹوں کے لیے ٹونا برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…