ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بابا وانگا کی پیشگوئی، کیا آج دنیا میں بہت بڑا زلزلہ اور سونامی آنے والے ہیں؟

datetime 5  جولائی  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )جاپان میں 5 جولائی کو ایک شدت آمیز زلزلے اور سونامی آنے کی پیش گوئی سے متعلق جاپانی بابا وانگا کی پیشگوئی سامنے آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2021 میں شائع ہونے والی مانگا ناول ”The Future I Saw“ کی مصنفہ ریو تاتسوکیجو نیو بابا وانگا کے نام سے مشہور ہیں، نے انتباہ دیا ہے کہ بحر الکاہل کے ممالک پر ایک خوفناک سونامی آئے گا۔ اس پیش گوئی نے وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیلایا ہے اور بعض عقیدت مند سیاحوں میں جاپان کے سفر کو لے کر خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ تاتسوکی نے اپنے پبلشر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ وہ دعوے دار تو نہیں، ممکن ہے کہ بڑا زلزلہ واقع نہ ہو، مگر انہوں نے اپنی بات مکمل طور پر واپس لینے سے انکار کیا ہے۔
سائنس دانوں کا موقف

زلزلہ کی پیش گوئی کو سائنس دان نا ممکن قرار دیتے ہیں۔ تاہم تاتسوکی کے مداح ان کی باتوں پر یقین کرتے ہیں کیونکہ وہ 2011 میں آنے والے توہوکو زلزلہ اور سونامی کی تباہ کاریوں کی پیش گوئی کرنے والی مانی جاتی ہیں، جس میں تقریباً 20 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

مانگا نے کیا پیش گوئی کی؟

آن لائن بحث کا آغاز 2021 کے مانگا ”The Future I Saw“ سے ہوا۔ پیش گوئی کے مطابق، جاپان اور فلپائن کے درمیان سمندر کی تہہ میں ایک دراڑ پڑے گی، جو 2011 کے مقابلے میں تین گنا بڑی سونامی کو جنم دے گی۔ اگرچہ کتاب میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں، لیکن بعض نے اسے 5 جولائی کو ہونے والے کسی بڑے حادثے کی نشاندہی سمجھا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور پوسٹس نے خاص طور پر مشرقی ایشیا (ہانگ کانگ، تائیوان، چین، جنوبی کوریا) میں زور پکڑا ہے۔
تاتسوکی جنہیں جاپان کی بابا وانگا کہا جاتا ہے، انہوں نے 2011 میں شمالی توہوکو میں آنے والے 9.0 شدت کے زلزلے کی پیش گوئی کی تھی۔

ساوتھ چین مارننگ پوسٹ کے مطابق مانگا ناول کے سرورق پر مارچ 2011 میں زبردست تباہی کے الفاظ تھے، جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو یقین ہوا کہ وہ ایک دہائی پہلے سے اس واقعے کو دیکھ چکی تھیں۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ تاتسوکی نے شہزادی ڈایانا اور موسیقار فریڈی مرکیوری کی غیر متوقع موت، نیز کورونا وائرس وبا کی بھی پیش گوئی کی تھی۔

جاپانی حکام اور سائنسدانوں نے جاپانی بابا وانگا کی اس پیش گوئی کو بے بنیاد قرار دیا ہے، اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبراہٹ کا شکار نہ ہوں۔ ماہرین کا اتفاق ہے کہ قدرتی آفات کی پیش گوئی ابھی تک ایک ناممکن کام ہے، اور فیصلے سائنس کی بنیاد پر ہی کیے جانے چاہئیں۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان پیش گوئیوں کو سنجیدگی سے نہ لیں کیونکہ اس پیشگوئی کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…