منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

اڈوں پر موجود بچے ٹرک ڈرائیوروں کے ہاتھوں کسی نہ کسی شکل میں استحصال کا شکار

datetime 5  جولائی  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کچھ عرصہ قبل کراچی کی معروف جامعہ آئی بی اے میں ہونے والی ایک تقریب نے سوشل میڈیا اور ملک بھر میں شدید ردعمل کو جنم دیا تھا۔ اس پروگرام کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے شہریوں نے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے۔ عوامی دباؤ کے نتیجے میں دو طلباء کو ادارے سے نکال دیا گیا، جس کے بعد احتجاج ختم ہو گیا۔تاہم دوسری طرف روزمرہ کی زندگی میں ایسے کئی واقعات سامنے آ رہے ہیں جو زیادہ سنجیدہ اور تکلیف دہ ہیں، لیکن ان پر معاشرے کی خاموشی حیران کن ہے۔

رفتار نامی یوٹیوب چینل کی ایک حالیہ ڈاکیومینٹری میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بچوں کے جنسی استحصال میں کچھ ٹرک ڈرائیور ملوث پائے گئے ہیں۔ ڈاکیومینٹری میں دکھایا گیا ہے کہ مانگنے والے اور کوڑا چننے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد، خاص طور پر لڑکے، کسی نہ کسی قسم کے جنسی استحصال کا شکار ہو چکے ہیں۔ایک ڈرائیور سے گفتگو میں اس نے اعتراف کیا کہ طویل سفر کے دوران وہ ایک بچے کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور وقت گزاری کے لیے ان کا استحصال کرتے ہیں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی بیوی کو ساتھ کیوں نہیں رکھتے تو اس نے جواب دیا کہ اسلام میں پردے کا حکم ہے، عورت کو گھر میں رہنا چاہیے، اس لیے بیوی کو ساتھ لے جانا مناسب نہیںیہ واقعات معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہیں، جہاں ایک جانب معمولی سرگرمیوں پر عوامی ردعمل آسمان چھونے لگتا ہے، وہیں بچوں کے ساتھ ہونے والی سنگین زیادتیوں پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…