ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان نے اسکولوں اور مدارس میں اسمارٹ فونز پر مکمل پابندی عائد کردی

datetime 19  جون‬‮  2025 |

قندھار (این این آئی)افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں طالبان حکام نے تعلیمی نظم و ضبط اور اسلامی اصولوں کے پیش نظر اسکولوں اور مدارس میں طلبہ، اساتذہ اور عملے پر اسمارٹ فونز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی علاقے میں طالبان حکام کی جانب سے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر پابندی نافذ کردی گئی ہے، جس کی تصدیق طلبا اور اساتذہ نے بھی کی ہے، یہ اقدام ‘توجہ’ اور ‘اسلامی قانون’ کے خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

قندھار میں صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامہ طلبا، اساتذہ اور اسکول و دینی مدارس کے انتظامی عملے پر لاگو ہوتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تعلیمی نظم و ضبط اور توجہ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا، جو کہ شرعی نقطہ نظر سے بھی درست قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اسمارٹ فونز آئندہ نسل کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ پالیسی پہلے ہی صوبے بھر کے اسکولوں میں نافذ کی جاچکی ہے، تاہم اساتذہ اور طلبا کے درمیان اس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔22 سالہ استاد سعید احمد نے بتایا کہ آج ہم اسکول میں اسمارٹ فونز نہیں لائے، مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے جس سے پڑھائی پر زیادہ توجہ دی جاسکے گی۔

گیارہویں جماعت کے طالب علم محمد انور کے مطابق اساتذہ کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی فون لاتا ہوا نظر آیا تو وہ طلبا کی تلاشی لینا شروع کر دیں گے۔بارہویں جماعت کے ایک اور طالب علم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ پابندی تعلیم میں رکاوٹ بنے گی، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں لڑکیوں پر پہلے ہی سیکنڈری اسکول اور یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے، جسے اقوام متحدہ نے صنفی امتیاز قرار دیا ہے۔اس طالب علم نے مزید کہا کہ جب استاد بورڈ پر اسباق لکھتے ہیں تو میں اکثر اس کی تصویر لے لیتا ہوں تاکہ بعد میں نوٹ تیار کر سکوں، لیکن اب میں یہ نہیں کر سکوں گا، اس فیصلے سے ہماری تعلیم پر منفی اثر پڑے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…