پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

لکسس ہوٹل’ عطا آباد جھیل میں گندا پانی چھوڑنے کیخلاف غیرملکی سیاح کی شکایت کام کرگئی

datetime 18  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گلگت بلتستان کے مشہور سیاحتی مقام عطا آباد جھیل پر ماحولیاتی آلودگی کے معاملے پر مقامی ہوٹل کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ حکام نے جھیل میں گندے پانی کے اخراج کی شکایت پر فوری نوٹس لیتے ہوئے ہوٹل کا ایک حصہ سیل کر دیا اور 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

تفصیلات کے مطابق، ایک غیر ملکی وی لاگر کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ نشاندہی کی گئی کہ عطا آباد جھیل کے کنارے قائم ایک معروف ہوٹل کی جانب سے آلودہ پانی جھیل میں چھوڑا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پانی کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے بلکہ بدبو بھی پھیل رہی ہے۔ وی لاگر نے دعویٰ کیا کہ جھیل کا پانی صاف اور نیلا ہے، مگر ایک خاص مقام پر یہ گدلا اور بدبودار ہو جاتا ہے، جو مبینہ طور پر ہوٹل کی جانب سے خارج ہونے والے پانی کا نتیجہ ہے۔اس معاملے پر ضلعی انتظامیہ اور ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے کارروائی کرتے ہوئے ہوٹل کے اس حصے کو بند کر دیا جو ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔

ڈپٹی کمشنر ہنزہ، اسسٹنٹ کمشنر گوجال اور ڈائریکٹر EPA نے مشترکہ کارروائی میں ہوٹل کا معائنہ کیا اور ماحولیاتی اور صحت و صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ عائد کیا۔انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ عطا آباد جھیل کے اطراف تمام ہوٹلوں کا مکمل معائنہ کیا جائے گا تاکہ ماحولیاتی ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب، ہوٹل “لکسس ہنزہ” کی انتظامیہ نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جھیل کے پانی کی گدلاہٹ ان کی وجہ سے نہیں بلکہ قدرتی برساتی نالے کی وجہ سے ہے جو اس مقام پر جھیل میں شامل ہوتا ہے، اور اس عمل کو آلودگی سے جوڑنا درست نہیں۔ہوٹل کے ڈائریکٹر شان لشاری کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ صفائی کے تمام اصولوں کی پابند ہے اور جھیل کو آلودہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم، حکومتی اقدامات کے بعد معاملے کی مزید چھان بین جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…