منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ملزم عمر نے ٹک ٹاکر ثنایوسف کو کیوں قتل کیا ؟ آئی جی اسلام آباد نے اصل حقیقت بتا دی

datetime 3  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ نوعمر ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا مرکزی ملزم مقتولہ سے دوستی کا خواہش مند تھا، تاہم بار بار انکار پر اس نے افسوسناک قدم اٹھایا۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز کے ہمراہ بتایا کہ یہ واقعہ نہ صرف دارالحکومت بلکہ پورے ملک میں غم و غصے کی لہر کا سبب بنا۔ اُن کا کہنا تھا کہ 17 سالہ باصلاحیت ٹک ٹاکر نے سوشل میڈیا پر اپنی منفرد پہچان بنائی تھی، اور اُس کی آواز معاشرے میں سنی جا رہی تھی۔

آئی جی نے کہا کہ ثنا یوسف کا قتل ثمبل تھانے کی حدود میں پیش آیا، جو اسلام آباد پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ قاتل کا سراغ لگانا اولین ترجیح قرار دیا گیا کیونکہ معاشرے میں اُبھرتی ہوئی ایک نوجوان لڑکی کو بے رحمی سے خاموش کر دیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق واردات 2 جون کو شام 5 بجے پیش آئی، جب مقتولہ کو گھر کے اندر دو گولیاں ماری گئیں۔ پولیس نے واقعے کے فوراً بعد تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے سات ٹیمیں تشکیل دیں، جنہوں نے جدید ٹیکنالوجی جیسے سیلولر ڈیٹا، ڈیجیٹل سرویلنس اور جیو فینسنگ کا سہارا لیا۔

تحقیقات کے دوران 113 مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی گئی جبکہ 300 سے زائد فون کالز کا ڈیٹا بھی کھنگالا گیا۔ ان معلومات کی مدد سے پولیس نے قاتل تک رسائی حاصل کی۔

آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ ملزم عمر نے مقتولہ سے قریبی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن ثنا یوسف کی جانب سے مستقل انکار پر وہ انتقامی ذہنیت کا شکار ہو گیا اور جان لیوا کارروائی کر ڈالی۔

پولیس نے ملزم کی گرفتاری کو جدید ٹیکنالوجی، تیز کارروائی اور ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…