پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

وزیر توانائی کا بجلی کی قیمت میں 50 فیصد کمی کا حیران کن دعوٰی

datetime 30  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے 1 کروڑ 80 لاکھ سے زائد گھریلو صارفین کو 50 فیصد تک رعایت فراہم کی ہے، جب کہ صنعتی شعبے کو بھی 31 فیصد سستی بجلی دی جا رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری کا کہنا تھا کہ حکومت توانائی صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں شفافیت اور کارکردگی لانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ڈسکوز (بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں) میں ریگولیٹری قوانین کا مکمل اطلاق کیا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کے الیکٹرک کے ٹیرف پر نظرثانی کی تیاریاں جاری ہیں اور جلد اس حوالے سے باقاعدہ درخواست نیپرا کو جمع کرائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظرثانی کا مقصد صارفین کو غیر ضروری مالی دباؤ سے بچانا ہے۔اویس لغاری نے نجی کمپنیوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اب منافع کا معیار صرف کارکردگی ہوگا، نہ کہ صارفین پر اضافی بوجھ ڈال کر فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کے الیکٹرک کا ٹیرف باقی علاقوں کے صارفین بھی برداشت کر رہے ہیں، جو کہ غیر منصفانہ طرز عمل ہے، اور اس پر حکومتی سطح پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔

نیٹ میٹرنگ پالیسی کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور نئی پالیسی منظور کر لی گئی ہے، جس پر آئندہ ایک ماہ کے اندر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔اویس لغاری نے مزید کہا کہ ملک میں پن بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے جس کی بنیادی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرنی پڑ رہی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گردشی قرضوں سے نجات کیلئے حکومت بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر بات کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ اس کا انحصار عالمی مارکیٹ پر ہے اور اس میں اتار چڑھاؤ ایک معمول کا عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے نظام کو مؤثر اور صاف شفاف بنانے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…