پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

بجٹ میں پرانی گاڑیوں کی امپورٹ پر ریلیف متوقع، چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں 5 تا 10 لاکھ روپے کمی کا امکان

datetime 29  مئی‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹیز میں نمایاں کمی آئے گی اور تین سال کی ایج لیمٹ کو پانچ سال تک بڑھانے کا فیصلہ متوقع ہے جس کے بعد چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں 5 سے دس لاکھ روپے کمی کا امکان ہے اور چھوٹی گاڑی 20 لاکھ روپے سے کم میں دستیاب ہوگی۔

خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ایچ ایم شہزادنے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ پانچ سال کے دوران استعمال شدہ گاڑیوں پر عائد بھاری ڈیوٹیز اور ٹیکسز کو بتدریج کم کیا جائے گا اور سیلز ٹیکس یا کسٹمز ڈیوٹی میں سے کسی ایک شکل میں مسابقتی ٹیکس عائد ہوگا۔شہزاد کے مطابق اس وقت گاڑیوں پر مجموعی ڈیوٹیز 96 فیصد سے لے کر 475 فیصد ڈیوٹی عائد ہے جنہیں آئندہ پانچ سال میں بتدریج ہر سال 20 فیصد کم کیا جائے گا۔چیئرمین موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہاکہ اگر حکومت نے پانچ سال پرانی گاڑیوں کی امپورٹ اور کمرشل بنیادوں پر درآمد کی اجازت دے دی تو گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑا فرق آئے گا، جاپان میں پانچ سال پرانی گاڑی تین سال پرانی گاڑی کے مقابلے میں تقریبا آدھی قیمت پر دستیاب ہوتی ہے، اس وقت اگر تین سال پرانی گاڑی آٹھ ہزار ڈالر کی ہے تو پانچ سال پرانی گاڑی ساڑھے تین یا چار ہزار ڈالر کی مل سکتی ہے۔

اس طرح قیمتوں میں 5 سے 10 لاکھ روپے تک کمی کا امکان ہے۔ایچ ایم شہزادنے کہا کہ اگر مجوزہ اقدامات نافذ ہو جاتے ہیں تو چھوٹی گاڑیوں کی قیمت میں 5 سے 10 لاکھ روپے تک کی کمی آ سکتی ہے۔ ان کے بقول ااس وقت پاکستان میں اسمبل کی جانے والی سب سے چھوٹی کار کی قیمت 31 لاکھ روپے ہے جبکہ یہی گاڑی پڑوسی ملک میں محض پونے چار لاکھ روپے میں دستیاب ہے، کرنسی کی قدر کا فرق بھی ختم کرلیں تو پاکستانی تیرہ لاکھ روپے میں پڑتی ہے، اگر ڈیوٹیز اور ایج لیمٹ میں نرمی کی گئی تو پاکستانی عوام کو 20 لاکھ روپے سے کم میں بہتر معیار کی جاپانی گاڑی مل سکے گی۔

ایچ ایم شہزاد کے مطابق اگر حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو من و عن مانتی ہے تو آئندہ مالی سال استعمال شدہ گاڑیوں کی امپورٹ 70 سے 80 ہزار یونٹس تک جاسکتی ہے، جو اس وقت 30 ہزار کے لگ بھگ ہے، اس سے حکومت کو ریونیو میں بھی خاطرخواہ اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہاکہ گاڑیوں کی درآمد بڑھنے سے حکومت کو ملنے والے محصولات میں 70 فیصد تک اضافہ ہوگا، مجوزہ اقدامات سے نہ صرف گاڑیاں سستی ہوں گی بلکہ مقامی اسمبلرز کی اجارہ داری بھی ختم ہوگی، جس کے بعد انہیں معیار بہتر بنانے اور مکمل مینوفیکچرنگ کی طرف جانا پڑے گا، ملک میں لوکلائزیشن نہیں ہوسکی، ہم آج بھی سی کے ڈی کٹس پر انحصار کرتے ہیں اگر مسابقت آئی تو لوکل اسمبلرز کو خود کو بہتر بنانا ہوگا، اس طرح درآمدی گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی کے خاتمے اور ایج لمٹ بڑھنے سے مقامی مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی جس سے لوکل انڈسٹری خود کو مضبوط بناسکے گی ۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کی تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا گیا تو یہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری، عوام اور حکومت تینوں کے لیے بڑا اور مثبت قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ عوام کو میاری گاڑیاں سستی قیمتوں میں میسر آئیں گی، حکومت کو ریونیو حاصل ہوگا اور اسمبلرز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑے گا۔ایچ ایم شہزادنے کہاکہ یہ اقدام انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)سے ہوئے معاہدے کی روشنی میں کیا جائے گا، جس کے تحت پاکستان نے گاڑیوں کی امپورٹ سے متعلق شرائط تسلیم کی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…