پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

گیس سیکٹر کا 3 ہزار ارب گردشی قرضہ ختم کرنے کا منصوبہ آئی ایم ایف کے سپرد

datetime 27  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے گیس کے شعبے کا 3 ہزار ارب کے قریب گردشی قرضہ ختم کرنے کا منصوبہ آئی ایم ایف کے سپرد کردیا۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں پاکستان نے گیس سیکٹر کے بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے حوالے کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تیار کردہ اس پلان میں مختلف تجاویز شامل کی گئی ہیں تاکہ گیس کے شعبے کو مالیاتی استحکام فراہم کیا جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کے شعبے میں گردشی قرضہ خطرناک حد تک بڑھ کر 3000 ارب روپے کے قریب پہنچ چکا ہے، جس پر قابو پانا اب ناگزیر ہو گیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف وفد کو تفصیل سے اعتماد میں لیا ہے اور گردشی قرضے کی مکمل صورتحال، وجوہات اور حل کے ممکنہ راستے پیش کیے ہیں۔قرضہ کم کرنے کے لیے ریاستی اداروں کے منافع کے استعمال کی تجویز بھی زیر غور ہے، تاکہ اضافی مالی دباؤ عوام پر منتقل کیے بغیر اس بحران کا حل نکالا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے گیس کمپنیوں کی گزشتہ 5 سال کی کارکردگی، منافع و نقصان کے گوشوارے، بیلنس شیٹس اور دیگر مالیاتی اعداد و شمار پر مبنی مکمل ڈیٹا آئی ایم ایف کو فراہم کیا گیا ہے۔آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ ان دستاویزات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں گیس کمپنیوں کے مالیاتی ڈھانچے، حکومتی سبسڈی اور صارفین پر اثرات جیسے نکات زیر بحث آئے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 5 برسوں میں گیس سیکٹر کا گردشی قرضہ مکمل طور پر ختم کرنا ایک قابلِ عمل ہدف ہے، تاہم اس کے لیے مسلسل اصلاحات اور سخت مالی نظم و ضبط درکار ہوگا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے اس منصوبے کی تاحال مکمل منظوری نہیں دی گئی ہے، تاہم وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام آئی ایم ایف وفد کو قائل کرنے کے لیے مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔ بجٹ سازی کے اہم مرحلے پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مرحلہ وار جاری ہیں، جن کے نتائج آئندہ بجٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…