پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

بیٹوں نے 90 سالہ والد کی شدید خواہش پر دوسری شادی کرادی

datetime 26  مئی‬‮  2025 |

شانگلہ (این این آئی)خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ کے علاقے بشام شنگ میں 90 سالہ بزرگ نے اپنی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے بیٹوں کی جانب سے منعقدہ تقریب میں دوسری شادی کرلی۔ رپورٹ کے مطابق مولانا سیف اللہ نے بیوی کے انتقال کے بعد دوبارہ شادی کرنے کی شدید خواہش ظاہر کی، جس پر ان کے چار بیٹوں نے ان کی خواہش پوری کرنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے اپنے والد کے لیے ایک ‘مناسب رشتہ’ تلاش کیا اور بعوض ایک تولہ سونا حق مہر کے ساتھ یہ شادی انجام پائی۔شادی کی تقریب میں مولانا سیف اللہ کے پوتوں، پڑپوتوں اور یہاں تک کہ ان کے پڑپوتوں کے بچوں نے بھی شرکت کی جبکہ محلے دار اور مقامی افراد بھی تقریب میں موجود تھے۔مقامی رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ نایاب اور متاثر کن واقعہ معاشرتی اقدار اور عمر و شادی کے روایتی نظریات کو چیلنج کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا سیف اللہ کے بیٹوں کا عمل والدین کی خواہشات کو اہمیت دینے اور بڑھاپے میں بھی ان کی خوشی کو ترجیح دینے کی ایک طاقتور مثال ہے۔

 

رہائشیوں نے اس فیصلے کو ایک ترقی پسند اور ہمدردانہ قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ محبت اور رفاقت ایسی نعمتیں ہیں جن کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔مولانا سیف اللہ کے چار بیٹے شریف اللہ، شفیع اللہ، رفیع اللہ اور عبداللہ ہیں، جو سب سعودی عرب میں کام کرتے ہیں۔شریف اللہ نے کہا کہ والدہ کے انتقال کے بعد ان کے والد خود کو تنہا محسوس کرتے تھے اور کبھی کبھار دوبارہ شادی کی خواہش کا اظہار کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے والد ایک امام رہے ہیں اور اپنی زندگی ہماری پرورش کے لیے وقف کر دی، اس لیے ہم خود کو خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ان کی دیرینہ خواہش پوری کر سکے۔شریف اللہ نے مزید کہا کہ ان کے والد کو آخرکار ایک نئی شریکِ حیات مل گئی ہے جو ان کے آرام دہ اور پُرسکون زندگی گزارنے میں مدد کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…