اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

مودی کا آدم پور ایئر بیس کا دورہ ، S-400 میزائل لانچر کے سامنے فوٹو سیشن

datetime 14  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں آدَم پُور ایئر بیس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے S-400 میزائل لانچر کے سامنے تصاویر کھنچوائیں۔ بھارتی میڈیا نے ان تصاویر کو پاکستان کے “آپریشن بنیان مرصوص” کے دوران بھارتی فضائی دفاعی نظام کی تباہی کے دعوے کا “جواب” قرار دیا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ بھارتی دفاعی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویری دورہ خود ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے، کیونکہ تصاویر میں S-400 کے لانچرز تو دکھائے گئے ہیں لیکن نظام کے اہم ترین اجزا جیسے کنٹرول سینٹرز اور ریڈارز موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق، اگر واقعی سسٹم محفوظ ہے تو اس کے مکمل اجزاء کو دکھانا چاہیے تھا۔

امریکا میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کرسٹوفر کلاری نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حملوں میں اصل ہدف عام طور پر لانچر نہیں بلکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹس اور ریڈارز ہوتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین میں تباہ ہونے والے روسی S-400 سسٹمز کی تصاویر بھی شیئر کیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ محض لانچرز کی موجودگی کسی نظام کی مکمل سالمیت کی دلیل نہیں ہوتی۔

کرسٹوفر کلاری کے مطابق، پاکستان کے دعوے کو اگرچہ اب تک براہ راست ثبوت حاصل نہیں ہوئے، لیکن مودی کا یہ فوٹو سیشن خود اس دعوے کو تقویت دے رہا ہے کہ دفاعی نظام کو کسی حد تک نقصان ضرور پہنچا ہے۔

واضح رہے کہ روسی ساختہ S-400 ایک جدید فضائی دفاعی نظام ہے، جو مختلف فضائی خطرات جیسے لڑاکا طیارے، کروز اور بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام کی ہر بیٹری میں کمانڈ یونٹ، دو ریڈار سسٹمز اور چار لانچرز شامل ہوتے ہیں۔

پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں کہا گیا کہ JF-17 بلاک III طیارے سے فائر کیے گئے جدید سی ایم-400 AKG میزائلوں نے آدَم پُور ایئر بیس پر نصب بھارتی S-400 بیٹری کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…