جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

بانی کی رہائی کیلئے ہمارے پاس زیادہ آپشن نہیں بچے،عمران خان کے بیٹوں کے اہم انکشافات

datetime 13  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹوں نے کہاہے کہ بانی کی رہائی کیلئے ہمارے پاس زیادہ آپشن نہیں بچے،ہم اپنے والد کی رہائی کے حوالے سے ہر اس حکومت سے اپیل کریں گے جو آزادی اظہار اور حقیقی جمہوریت کی حامی ہو،ہمارا مقصد صرف اپنے والد کو قید سے آزاد کرانا، پاکستان میں جمہوریت لانا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک انٹرویو کے ذریعے دنیا کی توجہ اپنے والد کی قید کی جانب کروائی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی کی رہائی کیلئے ہمارے پاس زیادہ آپشن نہیں بچے ہیں۔سوشل میڈیا انفلوئنسر ماریو نوفل کو دئیے گئے انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنے والد کی قید سے متعلق اب بولنے کا فیصلہ کیوں کیا؟جس پر قاسم خان نے بتایاکہ ہم نے قانونی راستے اختیار کیے اور ہر وہ راستہ آزمایا جس سے ہمیں لگا کہ عمران خان قید سے باہر آسکتے ہیں لیکن ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اتنے عرصے تک اندر رہیں گے جبکہ اب حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ہمارے پاس زیادہ آپشنز نہیں بچے، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ عوامی سطح پر آ کر بات کرنا ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان کی رہائی سے متعلق پاکستان پر بین الاقوامی دباؤ ہو کیونکہ وہ غیر انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔قانونی راستوں سے اب تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر سلیمان خان نے کہاکہ ہم نے تمام دیگر آپشنز اور قانونی راستے آزما لیے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب کچھ بالکل خاموش ہو چکا ہے۔امریکی عہدیدار رچرڈ گرینل کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے مطالبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر سلیمان خان نے کہا کہ تاحال ان سے کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم وہ ان کی اب تک کی حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کیلئے پیغام کے حوالے سے سلیمان نے کہا کہ ہم اپنے والد کی رہائی کے حوالے سے ہر اس حکومت سے اپیل کریں گے جو آزادی اظہار اور حقیقی جمہوریت کی حامی ہو۔انہوںنے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری سب کچھ دیکھے کہ ان کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ کوئی اقدام بھی کریں گے اور اس معاملے پر توجہ دینے کیلئے ٹرمپ سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ٹرمپ سے بات کرنا چاہیں گے یا کوئی ایسا راستہ نکالنا چاہیں گے جس سے وہ کسی طرح مدد کر سکیں، کیونکہ آخر میں ہمارا مقصد صرف اپنے والد کو قید سے آزاد کرانا، پاکستان میں جمہوریت لانا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کو یقینی بنانا ہے۔ایک سوال کے جواب میں دونوں بھائیوں نے کہا کہ 2سے 3ماہ میں صرف ایک بار عمران خان سے بات کر پاتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمارا سیاست میں حصہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں اور اس انٹرویو میں بولنے سے پہلے انہوں نے عمران خان سے اجازت لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…