اتوار‬‮ ، 08 مارچ‬‮ 2026 

جوابی کارروائی کے کئی آپشن لیکن پاکستان کی کوشش کیا ہوگی؟ الجزیرہ نے تجزیہ پیش کردیا

datetime 8  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں قائم سینٹر فار پالیسی ریسرچ سے وابستہ سینئر ماہر امور خارجہ گلس ورنیرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس لائن آف کنٹرول کے پار ممکنہ جوابی اقدامات کے کئی راستے موجود ہیں، لیکن وہ عالمی سطح پر کسی جنگجو ریاست کے طور پر ابھرنے سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے ورنیرز نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں موجودہ کشیدہ ماحول میں اپنی عسکری کارروائیوں کو “محدود اور مناسب ردعمل” کے طور پر پیش کرنے کے خواہاں ہیں تاکہ بین الاقوامی سطح پر تنازع کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

ان کے مطابق، ماضی میں جب بھی دونوں ممالک میں تناؤ بڑھا، کچھ اعتدال پسند عناصر بیچ میں آ کر ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے، لیکن اس بار ان کی مؤثریت پر شکوک و شبہات موجود ہیں۔

ورنیرز نے نشاندہی کی کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ برسوں میں براہ راست سفارتی مکالمہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، جو کسی بھی غلط فہمی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت داخلی سیاسی کشمکش سے دوچار ہے، جبکہ امریکہ، افغانستان سے اپنی افواج کے انخلا کے بعد، پاکستان پر اپنا روایتی اثر و رسوخ کھو بیٹھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان تمام داخلی اور بین الاقوامی عوامل نے خطے کی موجودہ صورتحال کو مزید غیر یقینی اور پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے باعث جنوبی ایشیا کا امن مزید خطرات کا شکار ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اینڈ آف مسلم ورلڈ


ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…