لاس اینجلس (این این آئی )ایک امریکی شہری ٹِم فریڈی نے تقریبا دو دہائیوں تک اپنے جسم میں سانپوں کا زہر داخل کر کے دنیا بھر کے سائنسدانوں کو حیران کر دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس طویل تجربے کا مقصد ایک ایسا نیا، موثر اور جامع اینٹی وینم (تریاقا) تیار کرنا تھا جو سانپوں کے زہریلے اثرات سے انسانوں کو بچا سکے۔
ماہرین کے مطابق فریڈی کے جسم میں جو مدافعتی نظام پیدا ہوا وہ غیر معمولی ہے۔ان کے خون میں پائے جانے والے اینٹی باڈیز نے تجربات کے دوران جانوروں کو مہلک سانپوں کے زہر سے محفوظ رکھا۔ٹِم فریڈی نے خود کو دنیا کے خطرناک ترین سانپوں جیسے مامبا، کوبرا، ٹائی پین اور کرائٹ کے زہر سے 700 سے زائد مرتبہ انجیکشن لگایا اور 200 سے زائد بار سانپوں سے ڈسنے کی اذیت برداشت کی۔



















































