منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

وہ وقت دور نہیں جب بابری مسجد کی بنیاد میں پہلی اینٹ پنڈی کا سپاہی رکھے گا اور پہلی اذان جنرل حافظ عاصم منیر دیں گے: پلوشہ خان

datetime 2  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن اب دور نہیں جب بابری مسجد کی تعمیر نو میں پہلی اینٹ ایک پاکستانی فوجی رکھے گا اور پہلی اذان جنرل حافظ عاصم منیر دیں گے۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان کی حفاظت صرف سات لاکھ افواج نہیں کر رہیں بلکہ ملک کے 25 کروڑ عوام بھی اس کی سلامتی کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ جو کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا، وہ آنکھ نکال دی جائے گی، اور جو ہاتھ ہماری جانب بڑھے گا، وہ کاٹ دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی مہم جوئی یا شرارت کی تو دہلی کے لال قلعے کے آس پاس کا علاقہ خون سے بھر جائے گا۔ انہوں نے نریندر مودی کے حمایتیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ راولپنڈی سے چیخیں سننے کی بات کرتے ہیں، لیکن اُنہیں اندازہ نہیں کہ پاکستان کی سرزمین پر رہنے والے کس جذبے سے سرشار ہیں۔

پلوشہ خان نے ہوگو شاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح شاویز نے دشمنوں کی لاشیں درختوں سے لٹکانے کی بات کی تھی، اسی طرح بھارت کو بھی یہ پیغام جانا چاہیے کہ پاکستان کسی قسم کی جارحیت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔

اُنہوں نے بھارت کی افواج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُن کی فوج داخلی طور پر بٹی ہوئی ہے، اور سکھ برادری کا بڑا حصہ پاکستان کے خلاف کسی بھی کارروائی میں شامل ہونے پر آمادہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…