پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے ساڑھے 12 ارب ڈالر قرضہ لے لیا، رقم کہاں خرچ ہوگی

datetime 22  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)مالی سال 2024ـ25 کے ابتدائی نو ماہ میں پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی مد میں صرف 12.5 ارب ڈالر حاصل ہوئے ہیں، جبکہ حکومت نے جون 2025 تک کے لیے 19.2 ارب ڈالر کا سالانہ ہدف مقرر کیا تھا۔اقتصادی امور ڈویژن (ای اے ڈی) کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق اس مجموعی رقم میں سے تقریباً 6.9 ارب ڈالر چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پرانے قرضوں کی تجدید (رول اوور) پر مشتمل تھے۔

باقی ماندہ 5.51 ارب ڈالر نئے قرضے اور گرانٹس کی شکل میں ملے، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد کم ہیں۔رپورٹ کے مطابق مارچ 2025 میں غیر ملکی امداد کی آمد 555 ملین ڈالر رہی، جو فروری کے 365 ملین اور جنوری کے 830 ملین ڈالر سے کچھ بہتر رہی۔ مالی سال کے ابتدائی نو مہینوں میں کمرشل بینکوں کی جانب سے پاکستان کو 504 ملین ڈالر کے قرضے ملے، جو بنیادی طور پر یو اے ای سے حاصل کیے گئے، تاہم حکومت نے اس مد میں سالانہ 3.8 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کر رکھا تھا۔گزشتہ سال کے مقابلے میں دو طرفہ قرضوں میں بھی کمی دیکھی گئی اور رواں برس یہ صرف 358.5 ملین ڈالر رہے، جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں 870 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔اسی دوران ایشیائی ترقیاتی بینک نے 1.189 ارب ڈالر اور ورلڈ بینک نے 979 ملین ڈالر فراہم کیے۔

نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے 1.455 ارب ڈالر موصول ہوئے، جو گزشتہ سال کے 781 ملین ڈالر سے کہیں زیادہ ہیں۔تاہم یہ رپورٹ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری کیے گئے ایک ارب ڈالر کی رقم کو شامل نہیں کرتی، جو اکتوبر میں جاری کی گئی تھی۔ ایسی ہی صورتحال گزشتہ سال اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت موصولہ 1.2 ارب ڈالر کے ساتھ بھی دیکھی گئی تھی، جسے اسٹیٹ بینک نے علیحدہ شمار کیا تھا۔حکومت کو مالی سال 2025 کے دوران سعودی عرب اور چین سے نو ارب ڈالر کی آمد کی توقع ہے، جن میں سعودی عرب کی جانب سے پانچ ارب ڈالر کے وقتی ڈپازٹس اور چین کی جانب سے چار ارب ڈالر کے سیف ڈپازٹس شامل ہیں۔

یہ رقوم پاکستان کے بیرونی مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت نہایت اہم تصور کی جا رہی ہیں۔مجموعی طور پر رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان کو غیر ملکی مالی معاونت کے حصول میں سست روی کا سامنا ہے، جس کی بڑی وجہ آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر، بین الاقوامی اداروں کی جانب سے محتاط رویہ، اور مجموعی عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال ہے۔ اگر متوقع فنڈز بروقت موصول نہ ہوئے تو حکومت کو مالیاتی استحکام قائم رکھنے میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…